ایل ایس ای جی اور کیپلر پر بحری جہازوں کی معلومات کے مطابق مائع پٹرولیم گیس کے دو اور بھارتی پرچم بردار ٹینکرز خلیج سے روانہ ہو گئے ہیں۔ گرین آشا اور گرین سانوی نامی جہاز جنوبی ایشیائی ملک کے لیے ایندھن لے جا رہے ہیں۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایک تیسرا جہاز جگ وکرم ہنوز آبنائے ہرمز کے مغرب میں موجود ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ "غیر دشمن ممالک کے جہاز" اگر ایرانی حکام سے رابطہ کاری کریں تو آبی گذرگاہ سے گذر سکتے ہیں۔
گرین آشا اور گرین سانوی خلیجی علاقہ عبور کر کے مشرقی آبنائے ہرمز میں ہیں اور اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ آبنائے سے گذرنے والے ایل پی جی کے بھارتی پرچم بردار جہازوں کی کل تعداد اب آٹھ ہو گئی ہے۔
بھارت آہستہ آہستہ اپنے پھنسے ہوئے ایل پی جی ٹینکرز کو آبنائے سے باہر نکال رہا ہے اور شیوالِک، نندا دیوی، پائن گیس، جگ وسنت، بی ڈبلیو ایلم اور بی ڈبلیو ٹائر پہلے ہی ہندوستان پہنچ چکے ہیں۔
بھارت کئی عشروں میں گیس کے بدترین بحران سے دوچار ہے اور حکومت صنعتوں کے لیے سپلائی میں کٹوتی کر رہی ہے تاکہ گھرانوں کو کھانا پکانے والی گیس کی کمی سے بچایا جائے۔
ملک میں گذشتہ سال 33.15 ملین میٹرک ٹن ایل پی جی یا کھانا پکانے والی گیس استعمال ہوئی جس میں طلب کا تقریباً 60 فیصد حصہ درآمدات سے پورا ہوا۔ ان درآمدات کا تقریباً 90 فیصد شرقِ اوسط سے آیا تھا۔ بھارت خلیج میں پھنسے ہوئے اپنے خالی جہازوں پر بھی ایل پی جی لاد رہا ہے۔