مصر کے صوبے جیزہ کے علاقے عجوزہ میں واقع نیشنل سرکس میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک تین سالہ بچی یادگاری تصویر کھنچوانے کی کوشش کے دوران شیر کے بچے کے حملے کا شکار ہو کر شدید زخمی ہو گئی۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق درندوں کے شو کے اختتام پر معمول کے مطابق ایک اسسٹنٹ کی نگرانی میں شیر کے بچے کو پنجرے سے باہر لایا گیا تاکہ لوگ اس کے ساتھ تصاویر بنوا سکیں۔ جب بچی کے گھر والے تصویر کھنچوانے کی کوشش کر رہے تھے، تو شیر کے بچے نے اچانک بچی پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں اس کے سر اور چہرے پر گہرے زخم آئے۔
بچی کو فوری طور پر بے ہوشی کی حالت میں عجوزہ جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کا ہنگامی آپریشن کیا گیا جس میں نو ٹانکے لگائے گئے۔
تحقیقات کے سلسلے میں سرکس کی لیڈٰ ٹرینر لوبا الحلو سے تقریباً آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ شیر کا بچہ "مانوس" ہے اور اسے تمام ضروری ویکسین لگائی جا چکی ہیں، نیز لوگوں کے ساتھ اس کی تصاویر کھنچوانا سرکس کا ایک معمول کا طریقہ کار ہے۔
پراسیکیوٹر آفس نے جائے وقوعہ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کا حکم دیا ہے اور سکیورٹی اداروں کو واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کی ہدایت کی ہے۔ مزید برآں، عدالت نے ٹرینر کو 20 ہزار مصری پاؤنڈ ضمانت کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ لوبا الحلو کا تعلق درندوں کو سدھانے والے مشہور "الحلو" خاندان سے ہے، وہ آنجہانی ٹرینر محمد الحلو کی صاحبزادی اور محاسن الحلو کی پوتی ہیں۔ وہ کئی مقامی اور عالمی شوز میں شرکت کر چکی ہیں اور "قلب الاسد"، "المصلحہ"، "عشان خارجین" اور ڈرامہ سیریل "ربع رومی" جیسے معروف فن پاروں میں درندوں کے مناظر کی نگرانی بھی کر چکی ہیں۔