اسرائیل سے دوطرفہ تعاون کا معاہدہ ختم کیا جائے: سپین کا یورپی یونین پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سپین یورپی یونین سے کہے گا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیاں کرنے پر اسرائیل سے دوطرفہ تعاون کا معاہدہ ختم کر دے، وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے اتوار کو کہا۔

سپین نے غزہ تنازع اور ہمسایہ ملک لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب نیتن یاہو نے سپین پر "منافقت اور دشمنی" کا الزام عائد کیا۔

سانچیز نے اندلس میں ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "منگل کو سپین کی حکومت یورپی یونین کو ایک تجویز پیش کرے گی کہ وہ اسرائیل سے دوطرفہ تعاون کا معاہدہ ختم کر دے۔"

انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیل "بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے" اور اس لیے "یورپی یونین کا شراکت دار نہیں ہو سکتا۔ سادہ سی بات ہے۔"

یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان جون 2000 کے معاہدے میں انسانی حقوق کے احترام کی ایک شق شامل ہے۔

غزہ جنگ میں استعمال کردہ ہتھکنڈوں پر تشویش کے درمیان سپین اور آئرلینڈ نے سب سے پہلے 2024 میں معاہدے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی سال سپین کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر اسرائیل کو غصہ آیا اور سانچیز نے اس کے بعد سے نیتن یاہو کی حکومت پر تنقید میں اضافہ کر دیا ہے۔

سپین، آئرلینڈ اور سلووینیا نے جمعے کے روز یورپی کمیشن کو ایک خط بھیجا جس میں یورپی یونین کے وزراء خارجہ کے اگلے اجلاس میں اسرائیل سے مذکورہ معاہدے کے موضوع پر بحث کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

نیتن یاہو نے اس ماہ سپین پر اسرائیل کے خلاف معاندانہ سفارتی مہم چلانے کا الزام لگایا اور میڈرڈ کو امریکہ کے زیرِ قیادت مرکز کے کام میں حصہ لینے سے روک دیا جو بعد از جنگ غزہ کے استحکام میں مدد کے لیے بنایا گیا ہے۔

نیتن یاہو نے اس وقت کہا تھا، "اسرائیل ان کے سامنے خاموش نہیں رہے گا جو ہم پر حملہ کریں۔"

نیز کہا، "میں یہ منافقت اور مخاصمت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ میں کسی بھی ملک کو اجازت نہیں دوں گا کہ وہ فوری قیمت ادا کیے بغیر ہمارے خلاف سفارتی جنگ کرے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں