ایک ایسے وقت میں جب جغرافیائی سیاسی تناؤ عالمی تجارت کا نقشہ دوبارہ ترتیب دے رہا ہے، سعودی عرب ایک تزویراتی منصوبے کے ساتھ ابھر رہا ہے تاکہ ایک تاریخی ریلوے کوریڈور کو بحال کیا جا سکے جو اسے اردن اور شام کے راستے ترکی سے جوڑ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو خطے کو محض ایک ٹرانزٹ کوریڈور سے نکال کر براعظموں کے درمیان تجارتی راستوں کی صنعت میں ایک اہم کھلاڑی بنا سکتا ہے۔
ایک لاجسٹک ماہر نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوریڈور منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں 6 اہم اقتصادی عناصر پیش کرتا ہے۔ ان عناصر میں سامان کی فراہمی کے وقت میں کمی، شپنگ کے وقت کے اتار چڑھاؤ میں کمی، سپلائی چین کی کارکردگی میں اضافہ، ورکنگ کیپیٹل پر دباؤ میں کمی، کمپنیوں میں نقدی کے دوران کی بہتری اور اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسا انتہائی موثر زمینی راستہ بنانا شامل ہے جو وقت، لاگت اور قابل اعتماد ہونے کے لحاظ سے سمندری راستوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
اسی حوالے سے وزیر ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سروسز انجینئر صالح الجاسر نے ’’ العربیہ ‘‘ کو اپنی توقعات بتاتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب رواں سال کے اختتام سے قبل اردن اور شام کے راستے ترکیہ کے ساتھ ریلوے لنک کے مطالعے کو مکمل کرنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ علاقائی انضمام کو فروغ دیتا ہے، تجارت کی حمایت کرتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار زمینی نقل و حمل کے نظام کو ترقی دیتا ہے۔
حالیہ بحران جو آبنائے ہرمز کی بندش اور بحری شنگ کی جزوی معطلی کے ساتھ ابھرا ہے، کے سائے میں ایسے منصوبے دوبارہ منظر عام پر آ رہے ہیں جو متبادل زمینی راستے بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ سپلائی چین کی لچک کو بڑھایا جا سکے۔ یہ ریلوے لنک کا منصوبہ اسی طرح کا ہے جو ایک ایسے تاریخی راستے کو زندہ کرتا ہے جس نے ایک تاریخی ریلوے کے ذریعے ترکیہ کو اردن اور شام کے راستے سعودی عرب سے جوڑا تھا۔ اس راستے میں لبنان تک پھیلی ہوئی ذیلی شاخیں بھی شامل تھیں۔
نیا منصوبہ مارکیٹوں کو جوڑنے اور تجارت میں سہولت فراہم کرنے پر مرکوز ہے جس میں الجوف کے علاقے میں "الحدیثہ" کے ذریعے اردن کی سرحد تک موجودہ سعودی نیٹ ورک کی رسائی سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اردن کے اس ریلوے منصوبے سے بھی مدد لی جائے گی جس کا اعلان ملک کے شمال کو جنوب سے جوڑنے اور عقبہ کے علاقے میں قائم لائنوں کو تیار کرنے کے لیے کیا گیا ہے جو "نیوم" کے قریب ہے جس نے ایک لاجسٹک کوریڈور کا اعلان کیا ہے جو ترکیہ کے راستے یورپ کو خلیجی ممالک اور عراق سے جوڑتا ہے۔
ٹرانزٹ کوریڈورز کی نئی تعریف
سعودی لاجسٹک ماہر انجینئر حسن آل ہلیل اس کوریڈور کی حقیقت کو ایک ایسے مربوط اقتصادی زمینی پل کے طور پر بیان کیا جو خلیج کو یورپ سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی موثر زمینی راستہ بنا کر مشرق وسطیٰ میں ٹرانزٹ کوریڈورز کے تصور کی نئی تعریف کرتا ہے جو وقت، لاگت اور قابل اعتماد ہونے کے لحاظ سے بحری راستوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کارکردگی کے نکات
سعودی لاجسٹک ماہر انجینئر حسن آل ہلیل نے توجہ دلائی کہ ریلوے ٹرانسپورٹ کھیپوں کو جمع کرنے میں زیادہ کارکردگی فراہم کرتی ہے۔ خاص طور پر بڑے حجم والے سامان جیسے پیٹرو کیمیکلز اور خام مال کی نقل و حمل میں جس سے فی ٹن/ کلومیٹر نقل و حمل کی لاگت کم ہوتی ہے اور یورپی منڈیوں میں علاقائی برآمدات کی مسابقت بڑھتی ہے۔
منصوبے کی کامیابی کے عناصر
اسی تناظر میں انجینئر آل ہلیل نے کہا کہ منصوبے کی کامیابی کا انحصار ممالک کے درمیان آپریشنل انضمام کی سطح پر ہے۔ اس میں کسٹم کے طریقہ کار کو یکجا کرنا، تجارت میں سہولت فراہم کرنا اور روانگی کے مقام سے منزل تک مکمل طور پر مربوط کنسائنمنٹ ٹریکنگ سسٹم تیار کرنا شامل ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ کوریڈور کی کارکردگی کا انحصار سرحدوں پر رکنے کے وقت کو کم کرنے اور عبور میں اعلیٰ روانی حاصل کرنے پر ہوگا جس کے لیے لاجسٹک سیکٹر کی ڈیجیٹل تبدیلی اور متعلقہ حکام کے درمیان نظاموں کے انضمام میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
1908 نقطہ آغاز
اس کوریڈور کی تاریخ کی طرف واپس جائیں جس کی تکمیل کے ارادے کا سعودی عرب نے انکشاف کیا ہے تو اس کا آغاز 1908 میں ہوا تھا۔ یہ دمشق سے جنوب میں مدینہ منورہ تک پھیلا ہوا تھا۔ دمشق ایک اہم مرکز تھا جہاں سے شمال میں حلب اور ترکیہ کی طرف اور مغرب میں لبنان، خاص طور پر بیروت کی طرف لائنیں نکلتی تھیں۔ اس نے اس نیٹ ورک کو ایک مربوط علاقائی نظام بنا دیا تھا۔
یہ منصوبہ اس وقت ایک اضافی جہت اختیار کر لیتا ہے جب اسے خلیجی ٹرین نیٹ ورک منصوبے سے جوڑا جائے۔ اس ٹرین نیٹ ورک کا مقصد خلیجی ممالک کو ایک متحدہ نیٹ ورک کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑنا ہے۔ اس سے نظریاتی طور پر ترکیہ سے اردن اور شام کے راستے سعودی عرب اور پھر باقی خلیجی ممالک تک ایک مسلسل ریلوے لنک کی راہ ہموار ہوتی ہے جو ایشیا کو یورپ سے جوڑنے والے ایک مربوط زمینی کوریڈور کا حصہ ہے۔
کوریڈور بنانے والی معیشت
سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ریلوے لنک کا منصوبہ کوریڈورز پر منحصر معیشت سے کوریڈورز بنانے والی معیشت کی طرف منتقلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ لاجسٹک ماہر انجینئر حسن آل ہلیل کوریڈور کی حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سپلائی چین کی لچک، تجارتی اثر و رسوخ کی دوبارہ تقسیم اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے لاجسٹک نظام کی تعمیر میں سرمایہ کاری کی صورتحال کو مضبوط بناتا ہے۔
حسن آل ہلیل نے کہا کہ اگر اسے کارکردگی اور انضمام کے اعلیٰ ترین معیارات کے مطابق نافذ کیا گیا تو یہ کوریڈور محض ایک ٹرانسپورٹ لائن نہیں بلکہ ایک مکمل اقتصادی پلیٹ فارم ہوگا جو عالمی تجارت میں مشرق وسطیٰ کے کردار کی نئی تعریف کرے گا، یعنی ایک ٹرانزٹ پوائنٹ سے براعظموں کے درمیان تجارتی بہاؤ کے کنٹرول سینٹر تک اور یہ علاقائی لاجسٹک ڈسٹری بیوشن سینٹر کے طور پر سعودی عرب کی پوزیشن کو دوبارہ مستحکم کرے گا۔
مجموعی طور پر ریاض اور انقرہ کے درمیان تاریخی کوریڈور کے احیاء کا اقدام ان اقدامات کے سلسلے کا حصہ ہے جو سعودی عرب نے تین براعظموں کو جوڑنے والے اپنے جغرافیائی محل وقوع کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھائے ہیں کیونکہ یہ عرب اور اسلامی دنیا کے مرکز میں واقع ہے جو اسے بین الاقوامی تجارت اور نقل و حمل کی نقل و حرکت کا ایک پل بناتا ہے۔