وائٹ ہاؤس میں صدارتی ڈنرمیں فائرنگ کرنے والے ملزم پیر کو عدالت میں پیش کیاجائے گا

نامہ نگاروں کے عشائیے میں مشتبہ شخص متعدد ہتھیاروں سے لیس تھا:واشنگٹن کی میئر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ کے فیڈرل پراسیکیوٹر نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی عشائیہ تقریب کے دوران فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود تھے۔

دوسری جانب فاکس نیوز نے اطلاع دی ہے کہ فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت ’کول تھامس ایلن‘ کے نام سے کی گئی ہے جس کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے اور اس کی عمر 31 سال ہے۔

مشتبہ شخص جس نے سکریٹ سروس کے اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا تھا اور خود محفوظ رہا تھا۔ اسے کل پیر کو جج کے سامنے پیش ہوگا۔



پراسیکیوٹر جینین پیرو نے اعلان کیا ہے کہ مشتبہ شخص پر پرتشدد جرم کے ارتکاب کے دوران اسلحہ استعمال کرنے اور خطرناک ہتھیار کے ذریعے وفاقی اہلکار پر حملے کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔

واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل بوزر نے اتوار کی علی الصبح بتایا کہ اس ہائی پروفائل تقریب جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ امریکی حکام شریک تھے، فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص پستولوں اور چاقوؤں سے لیس تھا اور یہ مانا جا رہا ہے کہ اس نے تنہا یہ کارروائی کی۔

موریل بوزر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ فی الوقت ہمارے پاس ایسی کوئی وجہ نہیں ہے جس سے یہ یقین کیا جائے کہ کوئی دوسرا شخص اس میں ملوث ہے۔ اس مرحلے پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اکیلے ہی کام کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت عوام کے لیے کسی قسم کا کوئی خطرہ نظر نہیں آتا۔

امریکی پراسیکیوٹر جینین پیرو نے کہا کہ مشتبہ شخص پر آتشیں اسلحے اور حملے سے متعلق الزامات عائد کر دیے گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل اتوار کی علی الصبح اپنے اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں گھس کر فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص ایک "تنہا بھیڑیا" (لون وولف) تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذکورہ شخص کو ذہنی طور پر مفلوج قرار دیتے ہوئے کہا کہ میری رائے میں وہ ایک تنہا بھیڑیا تھا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ ایسا محسوس نہیں کرتے کہ اس حملے کا ایران میں جاری جنگ سے کوئی تعلق ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں