وائٹ ہاؤس میں صدارتی ڈنرمیں فائرنگ کرنے والے ملزم پیر کو عدالت میں پیش کیاجائے گا
نامہ نگاروں کے عشائیے میں مشتبہ شخص متعدد ہتھیاروں سے لیس تھا:واشنگٹن کی میئر
امریکہ کے فیڈرل پراسیکیوٹر نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی عشائیہ تقریب کے دوران فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود تھے۔
دوسری جانب فاکس نیوز نے اطلاع دی ہے کہ فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت ’کول تھامس ایلن‘ کے نام سے کی گئی ہے جس کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے اور اس کی عمر 31 سال ہے۔
مشتبہ شخص جس نے سکریٹ سروس کے اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا تھا اور خود محفوظ رہا تھا۔ اسے کل پیر کو جج کے سامنے پیش ہوگا۔
إعلام أميركي:
— العربية (@AlArabiya) April 26, 2026
- مطلق النار يدعى "كول توماس ألين" من كاليفورنيا ويبلغ من العمر 31
- مطلق النار كان يعمل مدرسا ومطورا لألعاب الفيديو
- مطلق النار تبرع لحملة كامالا هاريس الرئاسية pic.twitter.com/BQSFJArmHh
پراسیکیوٹر جینین پیرو نے اعلان کیا ہے کہ مشتبہ شخص پر پرتشدد جرم کے ارتکاب کے دوران اسلحہ استعمال کرنے اور خطرناک ہتھیار کے ذریعے وفاقی اہلکار پر حملے کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔
واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل بوزر نے اتوار کی علی الصبح بتایا کہ اس ہائی پروفائل تقریب جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ امریکی حکام شریک تھے، فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص پستولوں اور چاقوؤں سے لیس تھا اور یہ مانا جا رہا ہے کہ اس نے تنہا یہ کارروائی کی۔
موریل بوزر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ فی الوقت ہمارے پاس ایسی کوئی وجہ نہیں ہے جس سے یہ یقین کیا جائے کہ کوئی دوسرا شخص اس میں ملوث ہے۔ اس مرحلے پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اکیلے ہی کام کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت عوام کے لیے کسی قسم کا کوئی خطرہ نظر نہیں آتا۔
امریکی پراسیکیوٹر جینین پیرو نے کہا کہ مشتبہ شخص پر آتشیں اسلحے اور حملے سے متعلق الزامات عائد کر دیے گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل اتوار کی علی الصبح اپنے اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں گھس کر فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص ایک "تنہا بھیڑیا" (لون وولف) تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذکورہ شخص کو ذہنی طور پر مفلوج قرار دیتے ہوئے کہا کہ میری رائے میں وہ ایک تنہا بھیڑیا تھا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ ایسا محسوس نہیں کرتے کہ اس حملے کا ایران میں جاری جنگ سے کوئی تعلق ہے۔