سعودی عرب میں 562 تاریخی بستیوں کی بحالی کے پروگرام کا آغاز

160 مقامات کی حفاظتی نگہداشت کی جارہی، ثقافتی سرمایہ کاری کو فروغ دینا بھی اہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب تاریخی بستیوں کی بحالی کے لیے ایک قومی پروگرام شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جس کا مقصد تاریخی دیہاتوں اور مقامات کو دوبارہ زندگی بخشنا اور انہیں ثقافتی، سیاحتی اور معاشی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ قدم تعمیراتی ورثے کی پائیداری کو فروغ دینے اور سعودی عرب کے "ویژن 2030" کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے رجحان کا حصہ ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں نجی ملکیت کی تقریباً 562 تاریخی بستیاں اور دیہات موجود ہیں جو تعمیراتی ورثے کے تنوع اور اس سے وابستہ سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کے ساتھ ساتھ اس کے تحفظ اور بحالی سے جڑے چیلنجوں کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔

160 مقامات حفاظتی نگہداشت میں

سعودی عرب کے ورثہ کمیشن نے 160 سے زیادہ تاریخی مقامات پر حفاظتی مرمت کی مداخلتوں کے نفاذ کا انکشاف کیا ہے۔ یہ ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد عمارتوں اور نوادرات کو ٹوٹ پھوٹ اور ماحولیاتی عوامل سے بچانا ہے۔ ایسے غیر مداخلتی اقدامات کے ذریعے جو ان کی اصلیت کو متاثر کیے بغیر ان کی عمر بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں۔

متعلقہ اداروں نے گزشتہ عرصے کے دوران تاریخی مقامات کی مرمت اور بحالی کے 37 مکمل منصوبے مکمل کیے ہیں۔ ان مقامات میں کئی نمایاں یادگاریں شامل ہیں۔ نمایاں یادگاروں میں قصر القشلہ، علاقہ باحہ میں الاطاولہ کے مقامات، شقراء اور اشیقر کی بستیاں اور قلعہ قباء، قلعہ العیون اور قصر عروہ جیسے تاریخی مقامات شامل ہیں۔

ثقافتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا قومی پروگرام

تاریخی بستیوں کی بحالی کا متوقع پروگرام ایک قومی حکمت عملی کے فریم ورک کے تحت بھی آتا ہے جس کا مقصد ان مقامات کو معاشی طور پر استعمال کرنا اور انہیں مقامی ترقی کے ذرائع میں تبدیل کرنا ہے تاکہ ثقافتی سیاحت کو فروغ ملے اور ان کے گرد و نواح کی آبادیوں کو مدد مل سکے۔

کمیشن نے واضح کیا کہ 100 سے زیادہ تاریخی بستیاں کیٹیگری اے میں شامل ہیں یا اس کیٹیگری کی عمارتوں پر مشتمل ہیں جو ان کی تاریخی اور تعمیراتی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے اور انہیں بحالی و ترقی کے منصوبوں کی ترجیحات میں رکھتی ہے۔

نگرانی کا مربوط نظام

ورثہ کمیشن مقامات کی حالت پر نظر رکھنے اور ان کی ترقیاتی ضروریات کا تعین کرنے کے لیے ’’ نیشنل رجسٹر آف اربن ہیریٹیج ‘‘ کے ساتھ ساتھ مسلسل فیلڈ دوروں پر انحصار کر رہا ہے تاکہ منصوبہ بندی کی کارکردگی کو بڑھایا جا سکے اور تحفظ و بحالی کے فیصلوں میں مدد مل سکے۔

کمیشن رواں سال کی چوتھی سہ ماہی کے دوران اپنے پروگراموں سے فائدہ اٹھانے کے دروازے کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سے مالکان اور سرمایہ کاروں کو تاریخی مقامات کی ترقی اور ان کی آپریشنل و معاشی پائیداری کے حصول میں شرکت کا موقع ملے گا۔

ورثہ کے تحفظ کی "ویژن 2030" میں مرکزی حیثیت

یہ رجحان اس قومی ثقافتی حکمت عملی کا تسلسل ہے جسے مملکت نے 2019 میں شروع کیا تھا۔ اس کا مقصد ثقافتی شناخت کو فروغ دینا اور تہذیبی ورثے کا تحفظ کرنا ہے۔ اسی طرح ان قوانین پر عمل کرنا ہے جو ثقافت کی حمایت اور ورثے کے تحفظ پر زور دیتے ہیں تاکہ عالمی ثقافتی منظر نامے میں سعودی عرب کی موجودگی مستحکم ہو سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں