صحت کا نیا طریقہ، پھلوں کے چھلکوں سے روٹی مزید فائدہ مند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ہم میں سے زیادہ تر لوگ پھلوں کے چھلکوں کو باقاعدگی سے ضائع کر دیتے ہیں، لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے کچھ چھلکوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

محققین نے دریافت کیا ہے کہ کم استعمال ہونے والے پھلوں کے چھلکوں میں موجود قدرتی رنگ (pigments) بیکنگ کے عمل کو برداشت کر سکتے ہیں اور روزمرہ کی روٹی کی غذائیت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

''فوڈ کیمسٹری'' نامی جریدے کے مطابق ایک عام شخص سالانہ تقریباً 24 کلوگرام روٹی استعمال کرتا ہے، جو ہفتے میں آدھے کلو سے زیادہ بنتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے روٹی کو زیادہ غذائیت بخش اور ممکنہ طور پر زیادہ ذائقہ دار بنانے کا ایک طریقہ دریافت کیا ہے، جس میں ایک خاص پھل کا اضافہ شامل ہے۔

حیاتیاتی طور پر فعال مرکبات

تفصیل کے مطابق سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے محققین نے پروفیسر چو وی بیاو کی قیادت میں ایسے طریقوں پر تحقیق کے نتائج شائع کیے ہیں، جن کے ذریعے سرخ ڈریگن فروٹ کے چھلکوں سے حیاتیاتی طور پر فعال مرکبات حاصل کر کے انہیں براہِ راست روٹی کے آٹے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

یہ تحقیق ''فوڈ کیمسٹری'' جریدے میں شائع ہوئی، جس کے مطابق ان مرکبات والی روٹی میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات عام سفید روٹی کے مقابلے میں تین گنا زیادہ پائی گئیں، جبکہ اس کا گلائسیمک انڈیکس بھی کم ہو گیا، جو خون میں شوگر کے اضافے کو سست کرتا ہے۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ یہ فوائد صرف بیکنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ ہاضمے کے بعد بھی برقرار رہے۔ اس نئی ترکیب کے لیے روٹی بنانے کے بنیادی طریقے میں صرف معمولی تبدیلیاں درکار ہوئیں۔

خالص بیٹاسیانین

محققین کی ٹیم کے مطابق اس تحقیق میں بنیادی جز ایک ایسا نچوڑ ہے جو خالص بیٹاسیانین (PBRE) سے بھرپور ہوتا ہے۔

یہ مادہ ڈریگن فروٹ کے چھلکوں سے حاصل کیا جاتا ہے، جنہیں عام طور پر فیکٹریوں یا گھریلو سطح پر ضائع کر دیا جاتا ہے۔

بیٹاسیانین وہ قدرتی رنگ دار مادے ہیں، جو سرخ ڈریگن فروٹ کو اس کا روشن اور نمایاں رنگ دیتے ہیں۔

اینتھو سائاننز کے برعکس جو بلیو بیریز اور جامنی بند گوبھی میں پائے جاتے ہیں، یہ مرکبات بیکنگ کے عمل کے لیے حیران کن طور پر زیادہ موزوں پائے گئے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ خوراک میں عام تیزابیت (pH) کی سطح پر زیادہ مستحکم رہتے ہیں اور پانی میں آسانی سے حل ہو جاتے ہیں، جس سے انہیں کھانوں میں شامل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

ان کے استعمال سے نہ صرف ذائقہ اور ترکیبوں میں تنوع آتا ہے بلکہ یہ طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس بھی ہیں، جو جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس کو کم کرنے اور خلیوں کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

یہی قدرتی رنگ دار مرکبات چقندر، سوئس چارڈ اور کانٹے دار ناشپاتی (پھگڑی انجیر) جیسے دیگر کھانوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔

متعدد فوائد

محققین کی ٹیم نے گندم کے آٹے میں اس نچوڑ کی مختلف مقداریں آزما کر جانچ کیں اور نتیجہ یہ نکلا کہ بہترین مقدار 0اعشاریہ75 فیصد ہے۔

اس تناسب سے بنی روٹی نہ صرف عام سفید روٹی کے مقابلے میں کم سخت اور زیادہ نرم و آسانی سے چبانے کے قابل تھی، بلکہ یہ نہ چپچپی بنی اور نہ ہی اس کی بنیادی ساخت متاثر ہوئی۔

پروفیسر چو وی بیاو کے مطابق نکشنل بنیادی غذائیں، جیسے انگور کے بیجوں کے نچوڑ سے مضبوط کی گئی روٹی، روزمرہ غذا میں حیاتیاتی طور پر فعال مرکبات شامل کرنے کا ایک عملی طریقہ فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر عام استعمال ہونے والی خوراک کی غذائی قدر بہتر بنانا گلائسیمک بوجھ کو کم کرنے اور اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے، اس کے لیے غذائی عادات میں بڑی تبدیلی کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں