ایک صفحے پر مشتمل... تہران کے لیے امریکی تجویز کی نئی تفصیلات

عبوری تجویز وسیع تر معاہدے پر مذاکرات کے لیے 30 دن کی مہلت فراہم کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پیش کردہ امریکی تجویز پر جواب کی توقع کے بیچ، با خبر ذرائع اور حکام نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک محدود اور عبوری معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ یہ معاہدہ ایک ایسے دائرہ کار کے مسودے پر مبنی ہے جس کا بنیادی مقصد جاری لڑائی کو فوری طور پر روکنا ہے۔ تاہم روئٹرز کے مطابق اب بھی متنازع ترین مسائل جوں کے توں موجود ہیں اور ان کا کوئی مستقل حل نہیں نکالا جا سکا۔ رپورٹوں کے مطابق یہ نیا منصوبہ کسی جامع اور حتمی امن معاہدے کے بجائے ایک مختصر مدتی مفاہمت کی یاد داشت (MoU) پر مبنی ہے، جو فریقین کے درمیان شدید اختلافات کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس مرحلے پر ہونے والا کوئی بھی معاہدہ محض عارضی نوعیت کا ہوگا۔

اس عبوری انتظام کا ایک اہم مقصد خطے میں تنازع کے دوبارہ آغاز کو روکنا اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی صورتحال کو مستحکم کرنا ہے۔ مذاکراتی کوششوں میں شریک ایک پاکستانی ذریعے کا کہنا ہے کہ اس وقت اولین ترجیح یہ ہے کہ دونوں فریق جنگ کے مستقل خاتمے کا با ضابطہ اعلان کر دیں، تاکہ جب وہ دوبارہ براہ راست مذاکرات کی میز پر آئیں تو بقیہ تمام تصفیہ طلب مسائل پر تفصیلی بات چیت کی جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مجوزہ دائرہ کارتین منظم مراحل پر مشتمل ہوگا : پہلے مرحلے میں جنگ کا با ضابطہ خاتمہ کیا جائے گا، دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز کے بحران کو حل کیا جائے گا اور تیسرے مرحلے میں ایک وسیع تر اور جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے 30 روزہ مذاکراتی دور کا آغاز کیا جائے گا۔

اگرچہ اس تجویز سے جنگ کا با ضابطہ خاتمہ ممکن نظر آتا ہے، لیکن یہ امریکہ کے ان کلیدی مطالبات کو حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے جن میں ایران کے ایٹمی پروگرام کی مکمل معطلی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس وقت امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔ اگر دونوں فریق اس ابتدائی دائرہ کار پر اتفاق کر لیتے ہیں، تو اگلے 30 دنوں کے اندر ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے تفصیلی مذاکرات کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ اس یاد داشت میں فی الحال ایسے کئی حساس معاملات کو نہیں چھیڑا گیا جو ماضی میں واشنگٹن کی جانب سے اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ان میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندی یا مشرقِ وسطیٰ میں مسلح تنظیموں کی حمایت کا خاتمہ شامل ہے۔ اسی طرح اس میں ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کے اس ذخیرے کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار سطح کے قریب پہنچ چکا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو 28 فروری سے جاری اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں، اس حوالے سے کافی پُر امید دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انتہائی مثبت بات چیت ہوئی ہے اور یہ قوی امکان ہے کہ بہت جلد کسی معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ پورا عمل بہت تیزی سے اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔ دوسری جانب ایرانی قیادت کے لہجے میں اب بھی شکوک و شبہات نمایاں ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں ان رپورٹوں کو امریکہ کی جانب سے گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ یہ محض آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے کھلوانے میں ناکامی کے بعد پیدا کردہ غلط بیانی ہے۔ ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے بھی اس امریکی تجویز کو حقیقت سے دور ایک "خواہشات کی فہرست" قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک مناسب وقت پر اس امریکی تجویز کا با ضابطہ جواب پیش کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں