ٹرمپ کی سرکاری دورے پر بیجنگ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج بروز بدھ بیجنگ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ ایک سربراہی ملاقات کریں گے جس میں عالمی تجارت سے لے کر ایران میں جنگ اور تائیوان کے معاملے تک کئی چیلنجوں پر بات چیت شامل ہے۔

صدارتی طیارہ مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 7:50 (11:50 جی ایم ٹی) پر اترا۔

نومبر 2017 میں اپنی پہلی مدتِ اقتدار کے دوران کیے گئے دورے کے بعد کسی بھی امریکی صدر کا چین کا یہ پہلا دورہ ہے۔

اس دورے میں تجارت اور کاروبار پر ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ کے اشارے کے طور پر، الاسکا میں قیام کے دوران انوِیڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ صدارتی طیارے میں ان کے ساتھ شامل ہوئے، جبکہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک بھی اس سفر میں ان کے ہمراہ ہیں۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واشنگٹن کی جانب سے برآمدی قواعد کے تحت چین پر فی الوقت انوِیڈیا کی ان جدید چپس کی خریداری پر پابندی ہے جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے لیے ناگزیر ہیں۔ واشنگٹن کا موقف ہے کہ اس کا مقصد قومی سلامتی کا تحفظ ہے۔

مزید برآں ایپل کے سربراہ ٹم کک جیسی دیگر امریکی کمپنیوں کے متعدد چیف ایگزیکٹوز بھی ٹرمپ کے ساتھ ہیں۔

تاہم فرانس پریس کے مطابق دنیا کی ان دو بڑی معاشی قوتوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے عزائم کے ساتھ ساتھ تائیوان اور ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق سیاسی تناؤ بھی پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اصل میں مارچ میں طے شدہ یہ دورہ تاخیر کا شکار ہوا تھا۔

دوسری جانب چین نے ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد سے قبل ہی ان کے لیے "خیر مقدم" کا اعلان کر دیا تھا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے ایک پریس بریفنگ کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ چین تعاون کو وسعت دینے اور اختلافات سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size