لبنانی ریاست نے گذشتہ ہفتوں کے دوران دو بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، پہلی کامیابی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری ہونے والے وہ سرکاری بیانات اور اعلیٰ حکام کی تصریحات ہیں جن میں تمام لبنانی علاقوں پر حکومتی رٹ کی بحالی اور سرحدوں کے تعین پر زور دیا گیا ہے۔ دوسری کامیابی لبنانی فوج کی مدد اور اسے اسلحہ و تعاون فراہم کرنے پر امریکی رضامندی ہے۔
پہلا اعلان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اسرائیل لبنان میں کوئی توسیع پسندانہ عزائم نہیں رکھتا اور اس سے اسرائیل کے ساتھ لبنان کی حتمی سرحدوں کے تعین سے متعلق مسائل کے حل کی امید پیدا ہوئی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی انتظامیہ ہمیشہ سے ان اصولوں کی پابند رہی ہے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ انتظامیہ نے بار بار اعلانات کی روایت ترک کر دی تھی اور سرکاری بیانات میں اس کی توثیق نہیں کر رہی تھی، مگر اب ایسا کیا جا رہا ہے۔
دوسری کامیابی لبنانی فوج کی امداد کے حوالے سے امریکی موقف میں تبدیلی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے امریکی انتظامیہ یہ کہتی رہی ہے کہ وہ لبنانی فوج کو امداد صرف اسی صورت میں دے گی جب وہ کوئی ٹھوس کامیابی دکھائے گی۔ امریکہ نے لبنانی فوج کی امداد روکی تو نہیں تھی لیکن گذشتہ مہینوں کے دوران اس کے موقف میں تبدیلی آنا شروع ہوئی اور اس نے امداد کے لیے کچھ شرائط رکھ دیں، جو امریکی وزارت دفاع کے بجٹ کے مطابق یہ ہیں کہ لبنانی فوج اور سکیورٹی فورسز کو دی جانے والی امداد ایرانی اثر و رسوخ کے خاتمے اور حزب اللہ کی صلاحیتوں کو ضرب لگانے کے لیے مختص ہونی چاہیے۔ ان دو فتوحات کے علاوہ لبنانیوں کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔
مذاکرات کے سیشن
لبنانی اور اسرائیلی وفود کے درمیان امریکی وزارت خارجہ کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے مذاکرات ایک ایسا فریم ورک فراہم کریں گے جہاں ہر فریق اپنی ترجیحات پر بات کرے گا۔ لبنان جنگ بندی اور دیہاتوں کی تباہی کا خاتمہ چاہتا ہے جبکہ اسرائیل حزب اللہ کا خاتمہ اور مستقل امن کی راہ تلاش کرنے کا خواہاں ہے۔ ظاہری طور پر لبنان نے سفیر سیمون کرم کے ذریعے اپنی نمائندگی کی سطح کو اسرائیلی سفیر یاخیئیل لائٹر کے برابر کر دیا ہے، جو نہ صرف امریکی دارالحکومت میں اسرائیل کے سفیر ہیں بلکہ لبنان اور شام کے معاملات میں بنجمن نیتن یاھو کے ذاتی نمائندے اور واشنگٹن کے ساتھ زیادہ تر اسرائیلی و امریکی معاملات کے اہم رابطہ کار بھی ہیں۔ سفیر کرم کو اس دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جنگ بندی نہیں ہو گی
مذاکرات سے باخبر ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو تصدیق کی ہے کہ اسرائیل لبنانی وفد کو مطلع کرے گا کہ وہ جامع جنگ بندی کی پاسداری نہیں کرے گا۔ وہ لبنانی وفد کو بتائے گا کہ اس کی حکومت ایک واضح حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد خطرے کا خاتمہ اور اپنی سکیورٹی یا شمالی علاقوں کے مکینوں کے لیے کسی بھی خطرے کو روکنا ہے۔ وفود کے موقف سے آگاہ ذرائع نے مزید بتایا کہ امریکی صدر کے گذشتہ مطالبات کے باوجود اسرائیلی موقف سے اتفاق کرتا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اسرائیلی وفد یا حکومت سے جامع جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کرے گی۔ ان ذرائع نے مزید کہا کہ اس وقت اسرائیل کی جانب سے دی جانے والی واحد رعایت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ دریائے لیطانی کی لائن سے دور کی جانے والی کارروائیوں کی شدت کم کر دے اور شمالی بقاع یا لبنانی دارالحکومت میں بمباری سے گریز کرے، تاہم جنگ بندی کا ہونا مشکل اور غیر یقینی ہے۔
حزب اللہ کا مقابلہ
امریکی وزارت خارجہ کی عمارت میں سہ فریقی مذاکرات کی میز پر حزب اللہ کا کوئی ہمدرد موجود نہیں ہے، بلکہ لبنانی حکومت کے وفد کو وہاں امریکیوں اور اسرائیلیوں کا ایسا گروپ ملے گا جو لبنانی حکومت سے حزب اللہ کی صلاحیتوں کو ختم کرنے، تمام علاقوں پر ریاستی قلمرو قائم کرنے اور ایرانی اثر و رسوخ مٹانے کا مطالبہ کرے گا۔ امریکی وفد کے موقف میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ صدر جوزف عون اور وزیر اعظم نواف سلام کی قیادت میں لبنانی ریاست کو ہمدردی کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ واشنگٹن میں موجود ذرائع کے مطابق امریکیوں کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ مدد کرے تو لبنانی فوج پیش رفت کر سکتی ہے، لیکن فی الحال لبنانی فوج کی صلاحیتیں ریاست کی رٹ بحال کرنے بالخصوص حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے لیے مکمل نہیں ہیں، اس لیے لبنانی مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں کو مزید افرادی قوت، ساز و سامان اور بہتر تنخواہوں کی ضرورت ہے۔
حوصلہ افزا اسرائیلی موقف
مذاکرات کاروں کے موقف سے باخبر ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ اسرائیل نے امریکی انتظامیہ کو مطلع کیا ہے کہ وہ لبنانی فوج کو مسلح کرنے اور امداد فراہم کرنے کی حوصلہ افزائی کرے گا اور وہ ان امریکی وعدوں پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لبنانی مذاکرات کار اسرائیلی وفد سے اس عزم کا اظہار بھی سنیں گے جس کی لبنانی ریاست کو ضرورت ہے، یعنی اسرائیلی وفد لبنانی وفد کو بتائے گا کہ جب لبنانی ریاست اپنے علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لے گی اور اسرائیلیوں کو حزب اللہ یا کسی دوسرے فریق کی جانب سے اپنی سرزمین پر حملے نہ ہونے کی ضمانت مل جائے گی تو اسرائیلی فوجی لبنانی علاقوں سے مکمل طور پر نکل جائیں گے۔ ان ذرائع نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل لبنانی علاقوں سے اپنے انخلا کو لبنان کے ساتھ امن معاہدے سے مشروط نہیں کر رہا۔
اگر اسرائیلی حکومت اپنے اس قول میں سچی ثابت ہوئی تو یہ اسرائیل کے موقف میں ایک بنیادی تبدیلی ہو گی، جو گذشتہ سنہ پچاس برسوں کے دوران عرب ممالک کے ساتھ مذاکرات میں زمین کے بدلے امن کے اصول پر سختی سے کاربند رہا ہے۔ یہ موقف سنہ 1983ء کے اسرائیلی موقف سے بھی بہتر ہو سکتا ہے جب اس نے 17 مئی کے معاہدے کے بدلے لبنان کے ساتھ تجارتی تعلقات کی شرط رکھی تھی۔ اب لبنانی اس بات کے منتظر ہیں کہ امریکہ فوجی اور سکیورٹی طاقت کی دوبارہ تعمیر میں ان کی مدد کرے اور اسے امن معاہدے پر دستخط کرنے یا لبنانی صدر کی اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ تصویر بنوانے سے مشروط نہ کرے۔
-
امارات کی نیتن یاہو کے دورے اور کسی بھی اسرائیلی فوجی وفد کے استقبال کی تردید
اس نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات "خفیہ کاری یا پوشیدہ انتظامات پر مبنی ...
مشرق وسطی -
اسرائیل میں حکمران اتحاد پارلیمنٹ کی تحلیل کی طرف بڑھ رہا ہے
اسرائیل میں حکمران اتحاد نے بدھ کے روز کنیسٹ (پارلیمنٹ) تحلیل کرنے اور قبل از وقت ...
مشرق وسطی -
اسرائیل کی جانب سے وادی بقا اور جنوبی لبنان کے قصبوں اور دیہات کے لیے انخلا کے انتباہات
اسرائیلی فوج نے آج جمعرات کو وادی بقا اور جنوبی لبنان کے علاقوں میں واقع آٹھ قصبوں ...
مشرق وسطی