ترکیہ کی وزارت داخلہ کے حکام نے بدھ کے روز اس امر کی تسدیق کی ہے کہ ترکیہ میں داعش کے 324 حامیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں پورے ترکیہ کے مختلف علاقوں سے کی گئی ہیں۔
ان افراد کی گرفتاری ترکیہ کے 47 صوبوں میں کی گئی حالیہ دنوں میں کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ ان زیر حراست لیے گئے افراد میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو داعش کے لیے فنڈز کا اہتمام کرتے تھے۔
بدھ کے روز وزارت داخلہ کے جاری کیے گئے بیانن میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں ملک کے امن اور سالمیت کے پیش نظر کی گئی ہیں۔ ان عناصر کے خلاف انتھک انداز میں مہم چلائی گئی۔ ان سب کی سال کے 365 دنوں میں نگرانی کی جاتی رہی۔ تاہم وزارت نے ان حراست میں لیے گئے افراد کے بارے میں یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا کس کس ملک سے تعلق ہے۔
اس سے قبل ترکیہ میں داعش نے سالہا سال تک مختلف دہشت گردانہ کاررواائیاں کی تھیں۔ ان کارروائیوں میں ایک بڑی کارروائی نئے سال کی تقریبات کے موقع پر 2017 میں کی گئی ایک خوفناک کارروائی بھی ہے۔ جس میں 39 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
دسمبر میں داعش کے جنگجو شمال مغربی علاقے میں پولیس کے ساتھ تصادم کی کیفیت میں رہے۔ اس دوران تین پولیس افسران جبکہ داعش کے چھ افراد مارے گئے۔ پولیس کی کارروائی کے دوران ایک ایسے مکان پر بھی کارروائی کی گئی جس میں داعش کے جنگجو پناہ لیے ہوئے تھے۔
پچھلے ماہ ایک بار پھر داعش کے مبینہ لوگوں نے ترک پولیس پر فائرنگ کی، یہ پولیس استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے باہر تعینات تھی۔ ترک وزیر داخلہ مصطفیٰ نے کہا 'ایک حملہ آور مارا گیا تھا۔'