امریکہ نے بحرِ ہند میں ایران سے منسلک تیل بردار جہاز قبضے میں لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

تین امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکہ نے بحرِ ہند میں ایران سے منسلک ایک تیل بردار جہاز کو رات کے وقت قبضے میں لے لیا، یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے ،جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دوبارہ فوجی حملوں کی دھمکی دے رہے ہیں، یہ بات وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ جہاز ''اسکائی ویو ''کے نام سے جانا جاتا ہے اور مارچ میں اس پر امریکی پابندیاں عائد کی گئی تھیں کیونکہ یہ ایرانی تیل کی ترسیل میں ملوث تھا۔

جہاز سے باخبر رہنے والے اعداد و شمار کے مطابق یہ منگل کے روز ملائیشیا کے مغرب میں سفر کر رہا تھا، جب اس نے آبنائے ملاکا عبور کی۔

اندازہ ہے کہ جہاز میں ایک ملین سے زائد بیرل خام تیل موجود تھا، جو بروکرز اور'' لوئڈز لسٹ انٹیلی جنس'' کے ڈیٹا کے مطابق ہے۔

یہ کم از کم تیسری بار ہے کہ امریکہ نے ایران سے منسلک ''خفیہ بیڑے'' کی ٹینکروں کے خلاف اپنی مہم کے تحت کوئی تیل بردار جہاز قبضے میں لیا ہے۔

یہ اقدامات خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں ایرانی بندرگاہوں پر لگائی گئی امریکی پابندیوں سے الگ ہیں۔

اس سے قبل امریکہ اپریل میں بحرِ ہند میں دو مزید جہازوں ''ماجسٹک ایکس'' اور ''ٹیفنی'' کو بھی تحویل میں لے چکا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ تہران پر اپنے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مطالبات ماننے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے۔

منگل کے روز صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ ایران پر نئے فوجی حملوں کا فیصلہ کرنے کے قریب پہنچ چکے تھے، تاہم خلیجی ممالک کی درخواست پر انہوں نے یہ فیصلہ مؤخر کر دیا۔

امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایران پر ایک اور حملہ کر سکتا ہے۔ یہ بیان اس کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے ،جب انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے وسیع فوجی کارروائی روک دی تھی، جبکہ اس دوران ایرانی فوج نے دھمکی دی ہے کہ اگر صورتحال آگے بڑھی تو وہ ''نئے محاذ'' کھول سکتی ہے۔

8 اپریل کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی تقریباً 40 روزہ کارروائیوں کے بعد عمل میں آئی، دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں تاکہ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے، تاہم واشنگٹن اور تہران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر مؤقف اب بھی بہت زیادہ مختلف ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں