سائنسدانوں نے بچوں کو سبزیاں پسند کروانے کا ایک منفرد طریقہ دریافت کر لیا

تحقیق کے مطابق دورانِ حمل اگر ماں اپنی غذا میں سبزیوں کا استعمال کرے تو جنین کو ان ذائقوں کی عادت ہو جاتی ہے، جس کے باعث بعد میں بچپن میں بچے کو سبزیوں سے نفرت نہیں ہوتی۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سائنسدانوں نے بچوں کو سبزیاں پسند کروانے کا ایک منفرد اور پہلے سے کم جانا جانے والا طریقہ دریافت کیا ہے، جو زیادہ تر والدین کے لیے ایک عام مسئلہ ہے کیونکہ بچے عموماً مٹھائیاں زیادہ پسند کرتے ہیں اور سبزیوں اور پھلوں سے گریز کرتے ہیں، حالانکہ یہ صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہیں۔

بچوں کو صحت مند غذا کی طرف مائل کرنا والدین کے لیے ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک نئی تحقیق کے مطابق حمل کا دور اس حوالے سے سب سے مؤثر وقت ہو سکتا ہے۔

سائنسی ویب سائٹ ''سائنس الرٹ'' کی رپورٹ کے مطابق محققین نے پایا کہ جن بچوں کی ماؤں نے حمل کے دوران مخصوص سبزیوں کا استعمال کیا تھا، وہ تین سال کی عمر میں انہی غذاؤں کی خوشبو پر منفی ردِعمل ظاہر کرنے کے کم امکانات رکھتے تھے۔

اس تحقیق کے مطابق دورانِ حمل ماں کی غذا بچے کے ذائقوں اور پسند ناپسند پر اثر ڈال سکتی ہے، اسی بنیاد پر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران ماں کے لیے ایسا غذائی نظام اپنانا مفید ہو سکتا ہے ،جو بعد میں بچے کو سبزیوں کی طرف مائل کرے۔

محققین کے مطابق اس تحقیق کی اہمیت صرف اس بات تک محدود نہیں کہ جنین غذائی اثرات کو کس حد تک جذب کرتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ بچوں کی غذائی عادات پیدائش سے پہلے ہی تشکیل دی جا سکتی ہیں، جس سے مستقبل میں سبزیوں سے نفرت کو کم کیا جا سکتا ہے۔

یہ نتائج برطانیہ کی ڈرہم اور ایسٹن یونیورسٹی کے محققین کی ایک ٹیم نے پیش کیے ہیں، جن کے مطابق ذائقوں اور ترجیحات کی بنیاد حمل کے دوران ہی پڑنا شروع ہو جاتی ہے اور یہ اثرات دودھ پلانے کے مرحلے تک بھی جاری رہ سکتے ہیں۔

ماہرِ نفسیات نادیا ریسلینڈ (یونیورسٹی آف ڈرہم) کہتی ہیں: ہم وقت کے ساتھ یہ دیکھ رہے ہیں کہ بچے ان سبزیوں کی طرف زیادہ مائل رہتے ہیں، جن سے وہ رحمِ مادر میں دورانِ حمل متاثر ہوئے تھے۔

اس بنیاد پر محققین کا کہنا ہے کہ حمل کے آخری مراحل میں کسی مخصوص ذائقے سے مسلسل واسطہ پڑنے سے بچے کے ذہن میں اس ذائقے یا خوشبو کی طویل المدتی یادداشت بن سکتی ہے، جو پیدائش کے بعد برسوں تک ان کی غذائی ترجیحات کو متاثر کر سکتی ہے۔

مطالعے میں ایسے بچوں کا جائزہ لیا گیا ،جن کی ماؤں نے حمل کے دوران گاجر اور بند گوبھی کا استعمال کیا تھا۔ پیدائش سے پہلے حمل کے 32 اور 36 ہفتوں کے دوران محققین نے الٹراساؤنڈ کے ذریعے جنین کے چہرے کے تاثرات ریکارڈ کیے، جب ماؤں نے گاجر یا بند گوبھی کے پاؤڈر والی کیپسول استعمال کی۔

2022 میں شائع ہونے والی ایک سابقہ تحقیق میں بھی یہ شواہد ملے تھے کہ جنین ان ذائقوں اور خوشبوؤں پر ردِعمل ظاہر کر سکتا ہے۔

حمل کے آخری تین ماہ (تقریباً 28ویں ہفتے کے بعد) میں انسان اتنا ترقی یافتہ ہو جاتا ہے کہ وہ امینیٹک فلوئڈ کے ذریعے ذائقے اور خوشبو کو محسوس کر سکتا ہے، جو ماں کی خوراک سے نال کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں۔

اس تازہ تحقیق میں محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا یہ ردِعمل اور عادت بعد میں بچپن تک برقرار رہتی ہے یا نہیں۔

نتائج میں دیکھا گیا کہ تین سال کی عمر کے 12 بچوں کو گوبھی اور گاجر کی خوشبو روئی کے فاہوں کے ذریعے دکھائی گئی اور ان کے ردِعمل کو مثبت یا منفی کے طور پر ریکارڈ کیا گیا۔

عمومی طور پر تین سال کے بچوں میں ان سبزیوں کے خلاف منفی ردِعمل کم پایا گیا، جن سے وہ رحمِ مادر میں متاثر ہوئے تھے، جبکہ جن بچوں کا پہلے سے تعلق نہیں تھا وہ نسبتاً زیادہ منفی ردِعمل ظاہر کرتے رہے۔

خاص طور پر کڑوی گوبھی نے زیادہ منفی ردِعمل پیدا کیا، تاہم ابتدائی تعارف نے اس منفی رجحان کو کم کر دیا۔

محققین نے اپنی شائع شدہ تحقیق میں لکھا کہ ذائقوں اور غذائی عادات کی تشکیل ایک پیچیدہ عمل ہے ،جس میں جینیاتی، ماحولیاتی اور ثقافتی عوامل سب شامل ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جینیاتی فرق بھی اس بات پر اثر انداز ہو سکتا ہے کہ مختلف افراد کھانے اور خوشبو کو کیسے محسوس کرتے ہیں، اس لیے وراثتی رجحانات ذائقوں کی حساسیت میں فرق پیدا کر سکتے ہیں اور قبل از پیدائش اثرات کی شدت کو بھی بدل سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق بچے کھانے کے معاملے میں چنیدہ ہو سکتے ہیں، لیکن ابتدائی عمر سے ہی درست غذائی عادات کی رہنمائی ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں مدد دیتی ہے۔

سائنسی مطالعے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ متوازن غذا جسمانی اور ذہنی صحت کے تقریباً تمام پہلوؤں پر مثبت اثر ڈالتی ہے، جس میں لمبی عمر، کینسر کے خطرے میں کمی، موٹاپا اور الزائمر جیسی بیماریوں کا کم خطرہ شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں