عالمی معیشت پر ایران جنگ کا دباؤ، لاکھوں ملازمین بے روزگاری کے دہانے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے جھٹکے عالمی لیبر مارکیٹس پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔

اس کی بڑی وجوہات میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، سیاحت میں کمی اور نقل و حمل و شپنگ کے اخراجات میں اضافہ شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگر تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 50 فیصد بڑھ گئیں ،تو 2026 میں عالمی سطح پر کام کے اوقات میں 0اعشاریہ5 فیصد اور 2027 میں 1اعشاریہ1 فیصد کمی آ سکتی ہے۔

تنظیم کے اندازے کے مطابق اس کے نتیجے میں رواں سال دنیا بھر میں تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ مکمل وقتی ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ اگلے سال یہ تعداد تیزی سے بڑھ کر مزید 3 کروڑ 80 لاکھ ملازمتوں تک پہنچ سکتی ہے۔

تنظیم نے واضح کیا کہ یہ دباؤ اب حقیقتاً اجرتوں اور روزگار کے مواقع پر اثر انداز ہونا شروع ہو چکا ہے، حتیٰ کہ جنگی علاقوں سے باہر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال عالمی سطح پر حقیقی اجرتوں میں 1اعشاریہ1 فیصد اور اگلے سال 3 فیصد تک کمی متوقع ہے، جس کی مالیت بالترتیب 1اعشاریہ1 ٹریلین اور 3 ٹریلین ڈالر بنتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان خطوں میں تقریباً 40 فیصد ملازمتیں ایسے شعبوں سے وابستہ ہیں ،جو بحران سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جیسے تعمیرات، ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ، تجارت اور خدمات۔

ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو توانائی اور بحری انشورنس کے اخراجات میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی کمپنیوں پر دباؤ بڑھے گا اور وہ ملازمتوں میں کمی پر مجبور ہو سکتی ہیں۔

کئی فضائی اور شپنگ کمپنیوں نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث اپنی پروازوں اور آپریشنز میں تبدیلیاں بھی شروع کر دی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس تنازع کے اثرات کچھ عرصے تک عالمی لیبر مارکیٹس پر برقرار رہ سکتے ہیں، جبکہ ان کے حجم اور شدت کا انحصار خطے کی صورتحال پر ہوگا۔

تنظیم نے خبردار کیا کہ عالمی معیشت پہلے ہی کمزور ترقی اور معیاری روزگار کی کمی کا شکار ہے، اب یہ نیا بحران مختلف ذرائع سے مزید دباؤ پیدا کر رہا ہے۔

رپورٹ میں اندازہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عالمی بے روزگاری کی شرح میں بھی بتدریج اضافہ ہوگا، جو 2026 میں 0اعشاریہ1 فیصد اور 2027 میں 0اعشاریہ5 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔

عرب ممالک سب سے زیادہ متاثر ہونے کے خدشے سے دوچار

بین الاقوامی محنت تنظیم کی رپورٹ کے مطابق عرب ممالک اس تنازع کے اثرات سے براہِ راست سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ خطے میں معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ، نقل مکانی، توانائی و تجارت کے جھٹکے اور مہاجر و پناہ گزین کارکنوں پر بڑھتا دباؤ تیزی سے اثر انداز ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر حالات جلد بہتر ہو گئے تو مجموعی اوقاتِ کار میں 1اعشاریہ3 فیصد کمی آ سکتی ہے، جبکہ بحران جاری رہنے کی صورت میں یہ کمی 3اعشاریہ7 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

اگر کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا تو اوقاتِ کار میں 10اعشاریہ2 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جو 2020 میں کورونا وبا کے دوران ہونے والی کمی سے بھی دوگنا زیادہ ہوگی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ عرب خطے میں تقریباً 40 فیصد ملازمتیں ایسے شعبوں سے وابستہ ہیں جو خطرات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جن میں تعمیرات، صنعت، ٹرانسپورٹ، تجارت اور ہوٹلنگ شامل ہیں۔

تنظیم کے مطابق لیبر مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کا سب سے بڑا بوجھ مہاجر کارکنوں پر پڑنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک بھی اس بحران سے متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کا انحصار درآمدی توانائی اور خلیجی ممالک سے جڑی مزدور ہجرت پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس خطے میں 2026 کے دوران اوقاتِ کار میں 0اعشاریہ7 فیصد اور 2027 میں 1اعشاریہ5 فیصد کمی متوقع ہے، جبکہ حقیقی آمدنی میں بالترتیب 1اعشاریہ5 فیصد اور 4اعشاریہ3 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایشیا اور بحرالکاہل کے تقریباً 22 فیصد کارکن ایسے شعبوں میں کام کرتے ہیں، جو زیادہ خطرے سے دوچار ہیں، جن میں زراعت، ٹرانسپورٹ، صنعت اور تعمیرات شامل ہیں، جبکہ سیاحت پر انحصار کرنے والی معیشتوں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size