الجزائر کی یونیورسٹیوں میں گریجویشن تقریبات پر پابندی، نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

الجزائر میں لیسانس،ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کرنے والے طلبہ کی یونیورسٹیوں کے اندر گریجویشن تقریبات کے انعقاد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ان تقریبات کے دوران مٹھائیاں تقسیم کرنے، آتش بازی کرنے اور یونیورسٹی کے اندر پٹاخے پھوڑنے جیسے مظاہر سامنے آتے تھے، جس کی وجہ سے اب طلبہ اور اساتذہ کے درمیان ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

وزارت اعلیٰ تعلیم و سائنسی تحقیق کی ہدایات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی حدود میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

نئی ہدایات کے مطابق لیسانس اور ماسٹر کے تحقیقی مقالوں کے دفاع کے لیے ہالز بک کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کالج کی حدود میں کسی بھی قسم کی مٹھائیاں یا مشروبات لانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ مقالے کے دفاع کے دوران چھوٹے بچوں کو کالج لانے پر بھی پابندی ہو گی اور ہر طالب علم کے رشتہ داروں کی حاضری زیادہ سے زیادہ 5 افراد تک محدود رہے گی۔

اسی طرح کالج کے تعلیمی یا انتظامی ہالز اور کھلی جگہوں پر کسی بھی قسم کی تقریبات کے انعقاد پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

نہ رشتہ دار اور نہ ہی تحائف

یونیورسٹی کی حدود کے اندر آتش بازی، پٹاخے اور پٹاخوں کے مواد کے استعمال کے ساتھ ساتھ موسیقی بجانے اور کسی بھی قسم کا شور و غل پیدا کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہاں تک کہ مقالے کی جانچ کرنے والی کمیٹی کے ارکان کو کسی بھی قسم کا تحفہ پیش کرنے سے بھی منع کر دیا گیا ہے۔

یہ ہدایات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب یونیورسٹی کے طلبہ اپنے تحقیقی مقالوں کے دفاع کے بعد اس اہم موقع کو یادگار بنانے کے لیے اپنے خاندان، رشتہ داروں اور دوستوں کو مدعو کرنے کے عادی تھے تاکہ وہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری حاصل کرنے کی خوشی میں شریک ہو سکیں۔

اس فیصلے نے یونیورسٹی کے حلقوں اور عام الجزائریوں کے درمیان ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ ان سرگرمیوں کو روکنے کے لیے بالکل مناسب ہے جو یونیورسٹی کے وقار کو مجروح کرتی ہیں، کیونکہ یونیورسٹی ایک علمی و اکیڈمک ادارہ ہے نہ کہ جشن منانے کی کوئی جگہ۔

دوسری جانب، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس فیصلے میں ضرورت سے زیادہ سختی کی گئی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ طلبہ یونیورسٹی کے اعلیٰ درجے کے حامل ہیں اور ان کا علمی معیار انہیں اس طرح کی حد سے بڑھی ہوئی تقریبات سے خود ہی روکتا ہے جو یونیورسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں۔

اس حوالے سے تعلیمی ماہر عمار بلحسن کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اکیڈمک ماحول کے تحفظ کے لیے جو مناسب سمجھے وہ فیصلہ کرے، بالکل اسی طرح جیسے طالب علم کو بھی اپنے تعلیمی سفر کے اس اہم ترین موقع کو محفوظ اور یادگار بنانے کا پورا حق ہے۔

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ وزارت کا یہ اقدام بلا وجہ نہیں ہے، بلکہ یقیناً انتظامیہ نے گریجویشن تقریبات کے دوران کچھ بے ضابطگیاں دیکھی ہوں گی اور اب وہ ان کا خاتمہ چاہتی ہے۔ جشن منانے میں حد سے زیادہ مبالغہ آرائی اور خاص طور پر فارغ التحصیل طالب علم کے ساتھ بڑی تعداد میں آنے والے مہمانوں کی موجودگی مقالے کے دفاع کی کارروائی پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

جہاں تک یونیورسٹی طلبہ کا تعلق ہے تو ماہر تعلیم نے مشورہ دیا ہے کہ وہ گریجویشن کی تقریبات یونیورسٹی سے باہر کسی جگہ منعقد کر سکتے ہیں اور مقالے کے دفاع کے دوران صرف اپنے خاندان کو مدعو کرنے پر ہی اکتفا کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں