حزب اللہ نے حملہ کیا تو واشنگٹن کی منظوری سے بیروت کے مضافات پر بم باری کریں گے : کاتز
اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق "امریکہ نے اس معاملے کی تائید کی ہے اور اسے لبنانی حکومت اور تمام متعلقہ فریقوں تک پہنچا دیا ہے"۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اگر حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی علاقوں پر حملہ کیا تو اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافات پر بم باری کرے گا۔
منگل ککے روز جاری وزارت دفاع کے ایک بیان کے مطابق، کاتز نے دفاعی برآمدات پر ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ "میں نے اور وزیراعظم (بنیامین نیتن یاہو) نے ایک نئے فارمولے کے قیام کے لیے کوشش کی ہے۔ اگر اسرائیلی بستیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو ہم حزب اللہ کے گڑھ، بیروت کے مضافات کو خالی کروائیں گے اور وہاں حملہ کریں گے۔"
کاتز نے مزید کہا "امریکہ نے اس معاملے کی تائید کی ہے اور اسے لبنانی حکومت اور تمام متعلقہ فریقوں تک پہنچا دیا ہے۔ یا تو اسرائیلی بستیوں پر فائرنگ بند ہو جائے یا اگر یہ جاری رہی تو ہم مضافات پر حملہ کریں گے۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "یہ فارمولا لاگو کیا جائے گا۔"
اسرائیلی وزیر دفاع نے اشارہ کیا کہ آنے والے دن "اس دفاعی پالیسی کا امتحان ہوں گے، یا تو اسرائیلی بستیوں پر فائرنگ بند ہو جائے گی یا پھر اگر یہ جاری رہی تو ہم مضافات پر حملہ کریں گے۔"
پیر کے روز ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسرائیل جنوبی مضافات پر حملہ کرنے والا ہے، کیونکہ اسرائیلی فوج نے وہاں کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کی تنبیہ جاری کی تھی اور اسرائیلی حکام نے دوبارہ بم باری کرنے کی دھمکی دی تھی۔
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے رات گئے اعلان کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو بیروت پر اس حملے کو روک دیں گے جس کی وہ تیاری کر رہے تھے اور فریقین نے باہمی حملے روکنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ انہوں نے پیر کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک فون کال کے دوران مطلع کیا ہے کہ اگر حزب اللہ نے حملے بند نہ کیے تو اسرائیل بیروت پر حملہ کرے گا۔ ان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نیتن یاہو نے مزید کہا کہ "اس معاملے پر ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔ ساتھ ہی، اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں منصوبے کے مطابق کارروائی جاری رکھے گی۔"
منگل کے روز اسرائیل نے جنوبی لبنان پر بم باری جاری رکھی اور کہا کہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر حملہ کیا ہے۔ یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فریقین کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے نئے دور سے قبل باہمی حملے روکنے پر اتفاق کے اعلان کے بعد ہوئی ہے۔
واشنگٹن میں لبنانی سفارت خانے نے گذشتہ رات ایک بیان جاری کیا جس میں حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ "باہمی حملے روکنے" پر اتفاق کا اعلان کیا گیا اور بتایا گیا کہ انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کی رضامندی کی اطلاع ملی ہے۔ تاہم متعلقہ فریقین نے اس کے لیے اپنے عزم کا اعلان نہیں کیا ہے۔
ایران میں جنگ کے تناظر میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کھلنے والے لبنانی محاذ پر گذشتہ دنوں بڑی کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ اس لیے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور وہ تزویراتی اہمیت کے حامل قلعہ شقیف تک پہنچ گئی ہے، جو کہ 2000ء میں 18 سالہ قبضے کے بعد لبنان سے انخلاء کے بعد سے اس کی سب سے گہری پیش قدمی ہے۔
-
اسرائیل سے 'عالمی' جنگ بندی، لبنان کے سپیکر حزب اللہ کی طرف سے پاسداری کی ضمانت دیں گے
نبیہ بری نے گروپ اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی ہے
مشرق وسطی -
غزہ کی پٹی : اسرائیلی فائرنگ اور حملے میں 3 فلسطینی جاں بحق
گزشتہ برس اکتوبر میں جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہو گیا تھا
مشرق وسطی -
سینا میں مصری ہوائی اڈے پر اسرائیل میں تشویش... عسکری ماہرین کے تبصرے
مصری فوجی عہدے دار کے مطابق تل ابیب ان الزامات کے ذریعے انتشار پھیلانے اور علاقائی ...
مشرق وسطی