حزب اللہ کا لبنانی ریاست کو تہران کے ساتھ تعلقات درست کرنے کا مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حزب اللہ نے لبنانی ریاست سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو "درست" کرے اور اس کی حمایت سے "فائدہ اٹھائے"۔ حزب اللہ نے دعویٰ کیا کہ بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیل کی بمباری کے جواب میں تہران کا ردعمل ملک کے حوالے سےیران کی "وابستگی کا پیغام" تھا۔

ایران کی حمایت یافتہ اس تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ لبنانی ریاست کی جانب سے ایران پر عائد کردہ الزامات لبنان کے مفاد کے خلاف ہیں۔

حزب اللہ نے حکام سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ امریکہ اور تہران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات سے ابھرنے والی نئی علاقائی چھتری کے تحت اس ایرانی حمایت سے فائدہ اٹھائیں۔

اسی دوران لبنانی ایوانِ صدر نے ایک بیان میں کہا کہ صدر جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ مذاکراتی وفد کے سربراہ سے اگلی نشست کی تیاریوں کے بارے میں بریفنگ لی ہے۔

مداخلت نہ کرنے کا مطالبہ

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو روز قبل ہی صدر عون نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کے ملک کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے سخت لہجے میں کہا تھا کہ "یہ آپ کا ملک نہیں ہے، یہ ہمارا ملک ہے اور ہمارا فرض ہے، آپ کا کام ہمارے ملک کے معاملات میں مداخلت کرنا نہیں ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ تہران لبنان کو امریکہ کے ساتھ اپنے مذاکرات میں سودے بازی کے کارڈ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

حزب اللہ کی یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ اتوار کو ایران نے حزب اللہ کے گڑھ بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی فضائی حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب میزائل داغے تھے، جس سے اپریل میں ہونے والی فائر بندی کے بعد سے اب تک کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

اس کے بعد تہران نے اپنے حملے روکنے کا اعلان کیا، لیکن ساتھ ہی یہ انتباہ بھی کیا کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ دوبارہ حملہ کرے گا۔

دوسری جانب اسرائیل نے لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے دوبارہ حملہ کیا تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔

بیروت اور تہران کے درمیان تعلقات اس وقت خراب ہوئے تھے جب 2 مارچ کو حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل پر میزائل داغے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں اور جنوبی، مشرقی لبنان اور بیروت کے مضافات میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔

ایران اس بات پر بضد ہے کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کا حصہ ہونا چاہیے، جبکہ اسرائیل دونوں راستوں کو الگ رکھنے پر زور دے رہا ہے۔

ادھر حزب اللہ نے امریکی سرپرستی میں لبنانی حکام اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے براہِ راست مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے اور کئی بار لبنانی حکومت پر "دشمن کے مطالبات" کے آگے جھکنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں