نائجیریا میں گزشتہ برس کم از کم 13 ہزار مبینہ دہشت گردوں کو مارا گیا

2023 سے اب تک 124,000 سے زیادہ جنگجوؤں اور ان کے اہل خانہ ہتھیار ڈال دیے ہیں: صدر بولا تینوبو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نائجیریا کے صدر بولا تینوبو نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران نائجیریا میں کم از کم 13 ہزار دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مئی 2023 میں ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اس ملک میں مسلح بغاوت کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں 81 فیصد کمی آئی ہے۔

بولا تینوبو نے گزشتہ ایک سال کے دوران 13 ہزار سے زیادہ دہشت گردوں کے خاتمے کی تصدیق کی۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کی مراد سال 2025 ہے یا گزشتہ بارہ مہینے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2023 سے اب تک 124,000 سے زیادہ جنگجوؤں اور ان کے خاندان کے افراد نے سیف کوریڈور کے عمل کے ذریعے اپنے ہتھیار ڈالے ہیں۔ یہ حفاظتی راستہ حکام کی جانب سے مسلح افراد کی بحالی کے لیے نافذ کیا جا رہا ہے۔

آبادی کے لحاظ سے افریقہ کے سب سے بڑے ملک نائجیریا کے شمال کو دو متوازی سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے جن میں ایک طرف مسلح گروہوں کا تشدد ہے اور دوسری طرف مجرمانہ گروہوں کا تشدد ہے۔ یہ بار بار دیہاتوں پر حملے کرتے ہیں اور تاوان کے لیے اجتماعی اغوا کی وارداتیں کرتے ہیں۔ 2009 سے بوکو حرام اور پھر شمال مشرقی نائجیریا میں اس کے حریف گروپ اسلامک سٹیٹ ان ویسٹ افریقہ (آئی ایس ڈبلیو اے پی) کے تشدد کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

ملک کے شمال مغربی اور وسطی علاقوں میں تاوان کے لیے اغوا کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں اور یہ بدامنی نائجیریا کے جنوب مغرب کے قریب پہنچ رہی ہے جہاں مئی میں اویو ریاست میں 40 سے زیادہ طلبہ اور اساتذہ کو ان کے اسکولوں سے اغوا کر لیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں