امریکہ اور ایران کے درمیان اعلان کردہ معاہدے کو عالمی سطح پر وسیع خیرمقدم حاصل ہوا ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ برسوں سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم موڑ ثابت ہوگا اور خطے میں سیاسی و سکیورٹی استحکام کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھے گا۔
خیرمقدم کرنے والوں میں سرفہرست اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس ہیں، جنہوں نے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر مشتمل اس معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کی جانب ''ایک فیصلہ کن قدم ''قرار دیا۔
گوتریس نے امید ظاہر کی کہ فریقین اس معاہدے سے پیدا ہونے والی مثبت فضا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقائی تنازعات کے پائیدار حل کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کریں گے۔
انہوں نے موجودہ موقع کو استحکام کے فروغ اور کشیدگی میں کمی کے لیے بھرپور انداز میں استعمال کرنے پر زور دیا۔
یورپی ممالک کی حمایت
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان ممالک کے مطابق یہ معاہدہ برسوں کی کشیدگی، محاذ آرائی اور باہمی پابندیوں کے بعد خطے میں تناؤ کم کرنے اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔
چاروں یورپی ممالک نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی یا ان کے خاتمے کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یورپ کی جانب سے اٹھائے جانے والے کسی بھی قدم کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر واضح اور قابلِ تصدیق انداز میں عمل کرے۔
برطانوی وزیرِ اعظم کیر اسٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور معاہدے میں کردار ادا کرنے والے ثالثوں کو مبارک باد دیتے ہوئے اس پیش رفت کو ''علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک اہم کامیابی ''قرار دیا۔
اسٹارمر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور وہاں کسی قسم کی غیر معمولی فیس یا پابندیاں عائد نہیں ہونی چاہئیں۔
انہوں نے معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق آئندہ متوقع تکنیکی مذاکرات میں اپنے ملک کے تعاون کا بھی یقین دلایا۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے اعلان کیا کہ جی سیون (G7) کا آئندہ اجلاس آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھلا رکھنے، لبنان کی حمایت اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق طے پانے والی مفاہمتوں پر عمل درآمد کے امور پر غور کرے گا۔
ایشیائی اور علاقائی حمایت
ایشیا میں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ جاپان کی وزیرِ اعظم سانائے تاکائچی نے اس معاہدے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اقدام آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری تجارت کی آزادی اور سلامتی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔
تاہم ٹوکیو نے واضح کیا ہے کہ اس وقت تک آبنائے ہرمز میں سیلف ڈیفنس فورسز بھیجنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ترکیہ نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اس سمجھوتے کو خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ انقرہ نے علاقائی بحرانوں کے حل کے لیے سفارتی کوششوں اور مذاکراتی راستے کو سراہا ہے۔
یہ عالمی خیرمقدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ،جب امریکہ اور ایران نے ایک ایسے معاہدے کا اعلان کیا ہے جس میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے، جوہری مسئلے پر نئے مذاکراتی عمل کے آغاز اور پابندیوں میں نرمی جیسے نکات شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس پیش رفت کے خطے کی سکیورٹی صورتحال اور عالمی توانائی منڈیوں پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔