ماکروں نے ورسائی محل میں مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کی وجہ ظاہر کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فرانس کے شاہی محل ورسائی کی شان و شوکت اور اس کی تزئین میں استعمال ہونے والے سونے کی چمک دمک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کرنے کی وجہ نہیں تھی۔

فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں کے مطابق اس محل کے انتخاب کی اصل وجہ اس کی تاریخی اہمیت اور امریکہ و فرانس کے درمیان تعلقات کی علامت ہونا ہے۔

ماکروں نے جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا کہ یہ محل 250 سال قبل امریکہ کی آزادی کے لیے فرانسیسی حمایت کا گواہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی محل میں 1778ء میں بنجمن فرینکلن نے فرانس کے شاہ لوئی شانزدہم کو امریکہ کی آزادی کی حمایت پر قائل کیا تھا۔

یوں ورسائی محل امریکی و فرانسیسی سفارت کاری اور اتحاد کی ایک کلیدی علامت ہے، جہاں امریکی انقلاب کے حامی اتحاد کے معاہدے طے پائے اور 1783ء میں آزادی کی جنگ کے خاتمے کے لیے ورسائی کے معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

ٹرمپ نے ورسائی سے نکلتے ہوئے صحافیوں سے کہا کہ انہوں نے ابھی اس مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے ہیں۔ بدھ کی شام ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دور سے اس مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔

ورسائی محل کا ایک منظر۔
ورسائی محل کا ایک منظر۔

اس کے تحت تہران آئندہ مذاکرات کے فریم ورک میں یورینیم کی افزودگی کی شرح کم کرنے کا پابند ہے، جس کے بدلے میں امریکہ پابندیاں ہٹائے گا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہل کار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک وڈیو پوسٹ کی جس میں صدر ٹرمپ کو فرانسیسی ہم منصب کی موجودگی میں معاہدے پر دستخط کرتے اور مسکراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایران میں وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ پزشکیان اور ٹرمپ نے متن پر دستخط کیے، جس کے بعد سرکاری میڈیا نے پزشکیان کی دستخط کرتے ہوئے تصاویر جاری کیں۔

ادھر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اہم واقعے کا جشن منانے اور فریقین کے درمیان تکنیکی مذاکرات کے آغاز کے لیے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں تقریبات منعقد ہوں گی۔

واضح رہے کہ ابتدائی طور پر یہ طے پایا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کل جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں اس معاہدے پر دستخط کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں