امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ 60 روزہ مذاکرات کی مدت کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ واشنگٹن ایرانی معاملے کے ساتھ ایک ایسے انداز سے نمٹ رہا ہے جو سابق صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے معاہدے سے بالکل مختلف ہے۔
جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس میں ایک بریفنگ کے دوران صحافیوں کو مزید بتایا کہ حتمی معاہدے کے تحت ایران کے پاس میزائل نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے چھٹکارا پانے کے اپنے عہد پر عمل کرے۔
امریکی نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ مفاہمت کی یادداشت کا فارسی ترجمہ انگریزی نسخے کے عین مطابق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ سوئٹزرلینڈ ایرانی وفد کی آمد پر منحصر ہے۔ یہ اتوار کے دن ہو سکتا ہے۔ جے ڈی وینس نے اصرار کیا کہ اگر ایران نے اپنا رویہ نہ بدلا تو امریکہ دوسرے طریقے اختیار کرے گا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک ہر حال میں جیتے گا۔
بحری ناکہ بندی فائدہ مند
امریکی نائب صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی اس دباؤ اور پتوں کی اہمیت کو سمجھتے ہیں جو اس مسئلے میں امریکہ کے پاس ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہم باتوں پر بھروسہ نہیں کرتے، اس لیے ہم ایران کو اس کے وعدوں پر عمل کرنے سے پہلے کسی چیز سے نہیں نوازیں گے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ تہران کو امریکہ سے کوئی رقم نہیں ملے گی۔
جہاں تک آبنائے ہرمز کا تعلق ہے امریکی نائب صدر نے کہا کہ حتمی مذاکرات ساٹھ دنوں کے بعد کے حالات کے لیے شرائط طے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بحری ناکہ بندی فائدہ مند تھی اور اسے آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے میں اٹھایا گیا ہے۔
پابندیوں کا عارضی خاتمہ
جے ڈی وینس نے یہ بھی واضح کیا کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر سے پابندیاں عارضی طور پر اٹھائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے کانگریس کو غیر رسمی طور پر ایران کے ساتھ ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کر دیا ہے۔ امریکی نائب صدر نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے اچھا رویہ اختیار نہ کیا تو کسی بھی وقت اس پر دوبارہ پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
مزید برآں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے بدھ کی رات کے دوران کسی بھی جہاز پر فائرنگ نہیں کی۔ یہ ایرانیوں کی طرف سے معاہدے کے احترام کی علامت ہے۔ ایران کو اقتصادی فوائد حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ کارکردگی دکھانی ہوگی۔ تہران کو صحیح طریقے سے برتاؤ کرنے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ جے ڈی وینس نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے لیے رقم یا اقتصادی فوائد حاصل کرنے کا واحد طریقہ اس کی وابستگی اور رویے کی تبدیلی ہے۔
اسرئیلی امن عمل کا احترام کریں
لبنان کے بارے میں امریکی نائب صدر نے کہا کہ بیروت میں شہریوں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف کوئی بھی حملہ، چاہے اس کا دائرہ کتنا ہی کیوں نہ ہو، ناقابل قبول ہے۔۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ہم اسرائیلیوں کے ساتھ مسلسل بات چیت کر رہے ہیں اور صدر ٹرمپ ان کے ساتھ واضح تھے۔ اسرائیل کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن کے عمل کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم لبنانی حکومت کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں تاکہ حزب اللہ کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
تیل کی روانی جاری
اسی تناظر میں جے ڈی وینس نے کہا کہ گزشتہ رات کے دوران تقریباً 12.5 ملین بیرل تیل کی روانی ریکارڈ کی گئی۔ یہ توانائی کی منڈیوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تہران کے ساتھ مفاہمت کے بعد واشنگٹن نے کم از کم 12 بحری جہازوں کو امریکی ناکہ بندی کو بائی پاس کرنے کی اجازت دی ہے۔
واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پزیشکیان کے درمیان جنگ کے خاتمے اور تیل کے ٹینکروں اور دیگر بحری جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ جنگ کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اس وقت بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا جب ایرانی اقدامات میں اس اہم آبی گزرگاہ کی بندش شامل ہو گئی تھی۔ اس آبنائے سے عام طور پر عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔