ایٹمی ڈیٹرنس ہی تیسری عالمی جنگ کو روکنے کا واحد ذریعہ ہے:روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روس نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیار اب بھی ایک نئی عالمی جنگ کو روکنے کے لیے بنیادی ضمانت کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر علاقائی تناؤ اور تنازعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماسکو میں منعقدہ بین الاقوامی سائنسی فورم "پریماکوف ریڈنگز" سے خطاب کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ عالمی سکیورٹی کئی اشاریوں کے مطابق تنزلی کا شکار ہے اور ایٹمی ڈیٹرنس ہی وہ واحد عنصر ہے جو تیسری عالمی جنگ کے آغاز کو روک رہا ہے۔

روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی "ٹاس" کے مطابق پیسکوف نے وضاحت کی کہ "دنیا کے پاس اب ایٹمی ڈیٹرنس کے سوا کچھ نہیں بچا، یہی وہ واحد چیز ہے جو عالمی جنگ کے پھوٹ پڑنے سے بچا رہی ہے"۔

تنازعات کے امکانات میں اضافہ

ساتھ ہی روسی عہدیدار نے تسلیم کیا کہ یہ صلاحیتیں علاقائی تنازعات کو نہیں روک سکتیں ۔انہوں نے اشارہ کیا کہ دنیا کے کئی حصوں میں اس طرح کے تصادم کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

پیسکوف کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب روس اور نیٹو کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، یوکرین میں جنگ جاری ہے اور مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں سکیورٹی بحرانوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتین متعدد بار بڑی طاقتوں کے درمیان وسیع تر تصادم کی طرف جانے کے خطرات سے خبردار کر چکے ہیں۔ روس کا موقف ہے کہ اس کا جوہری نظریہ اس صورت میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دیتا ہے اگر ریاست یا اس کے اتحادیوں کو وجودی خطرہ لاحق ہو۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب روس کی جانب سے مسلسل نئے ہتھیاروں کی دوڑ کے بارے میں انتباہات دیے جا رہے ہیں، خاص طور پر اس کے بعد کہ کئی مغربی ممالک نے یوکرین جنگ کے پس منظر میں اپنے دفاعی اخراجات بڑھانے اور فوجی صلاحیتوں کو وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں