یمن کے مغربی صوبے الحدیدہ کے جنوبی علاقے میں حکومتی افواج اور حوثی گروپ کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں میں 50 حوثی جنگجو ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق اپریل 2022 میں حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان جنگ بندی کے آغاز کے بعد یہ سب سے شدید لڑائی قرار دی جا رہی ہے۔
یمنی حکومت میں وزیر مملکت ولید القدیمی نے بتایا کہ حیس شہر کے شمال میں واقع جبل دُباس کے محاذ پر ''تہامہ کی زرانیق بریگیڈز ''اور حوثیوں کے درمیان ہونے والی شدید لڑائی میں 50 سے زائد حوثی مارے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس'' پر ایک بیان میں کہا کہ ان جھڑپوں کے دوران حکومتی افواج کے 15 اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
ولید القدیمی کے مطابق حوثی گروپ جنوبی الحدیدہ کے آزاد کرائے گئے علاقوں کی جانب پیش قدمی کے لیے '' تہامہ کی زرانیق بریگیڈز ''کی پوزیشنوں پر مسلسل ''خودکش حملے ''کر رہا ہے تاکہ محاذ پر پیش رفت حاصل کی جا سکے۔
دوسری جانب یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اتوار کی شام کونسل کے رکن طارق صالح سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور مغربی ساحلی محاذ کی تازہ فوجی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر انہیں جنوبی الحدیدہ میں حوثیوں کی زمینی دراندازی اور حملے کو ناکام بنانے کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔
یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے مغربی ساحلی محاذ پر حالیہ جھڑپوں کے بارے میں تفصیلی فوجی بریفنگ حاصل کی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ ''قومی مزاحمتی فورسز'' نے حوثیوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی، جس کے بعد حوثی جنگجو جانی نقصان اٹھاتے ہوئے پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے۔
رشاد العلیمی نے فوج کو ہدایت کی کہ وہ اعلیٰ سطح کی عسکری تیاری برقرار رکھے اور مختلف فوجی یونٹوں اور مسلح دستوں کے درمیان مربوط کارروائیوں کو مزید مضبوط بنائے، تاکہ کسی بھی ایسی کشیدگی کا مؤثر جواب دیا جا سکے، جو ملک میں استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہو۔
دریں اثنا عسکری ذرائع نے ہفتے کے روز بتایا کہ جنوبی الحدیدہ کے آزاد کرائے گئے علاقوں میں تعینات '' تہامہ کی زرانیق بریگیڈز'''اور حوثی گروپ کے درمیان جمعہ کی شام سے شدید لڑائی جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق مختلف نوعیت کے ہتھیاروں سے لڑی جانے والی یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب حوثیوں نے بھاری توپ خانے اور شدید فائرنگ کی آڑ میں حیس شہر کے شمال میں واقع ''دباس محاذ'' پر ''14ویں انفنٹری بریگیڈ (الثانی زرانیق)'' کی پوزیشنوں پر حملہ کیا۔ بعد ازاں حکومتی افواج نے اضافی کمک پہنچنے کے بعد حوثیوں کے حملے کو پسپا کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق اپریل 2022 میں جنگ بندی کے آغاز کے بعد یہ جھڑپیں حکومتی افواج اور حوثیوں کے درمیان ہونے والی شدید ترین لڑائیوں میں شمار کی جا رہی ہیں۔