مقامی پیداوار، مصنوعی ذہانت، زیاں میں کمی: سعودی ادویات کی سکیورٹی بہتر بنانے کی تثلیث

اگلے سال تک ملک میں ادویات کی مارکیٹ کی مالیت بڑھ کر 15 ارب ڈالر سے زیادہ ہونے کی توقعات ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 14 منٹ

سعودی عرب میں دوا سازی کی صنعت کا شعبہ "ویژن 2030" کے اہداف کے تحت تیزی سے تبدیلی کا گواہ بن رہا ہے۔ سعودی عرب ادویات کی سکیورٹی کو اپنی سٹریٹجک ترجیحات میں رکھتا ہے۔ سعودی عرب کا مقصد مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا، جدید ٹیکنالوجی کو مقامی بنانا اور ایک ایسا صنعتی نظام بنانا ہے جو طبی ضروریات کو پورا کرنے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت کے اخراجات کی کارکردگی کو بڑھانا، ادویات کے زیاں کو روکنا اور مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانا بھی مقاصد میں شامل ہے۔

امید افزا شعبہ

مارکیٹ کے اشاریے اس شعبے کی جانب سے فراہم کردہ مواقع کے حجم کی عکاسی کر رہے ہیں کیونکہ فچ سلوشنز کے تخمینوں سے پتہ چلتا ہے کہ 2022 میں سعودی عرب میں ادویات کی مارکیٹ کی مالیت تقریباً 11.72 ارب ڈالر (44 ارب سعودی ریال) تھی۔ 2027 تک اس کے بڑھ کر 15.09 ارب ڈالر (56.6 ارب سعودی ریال) تک پہنچنے کی توقعات ہیں۔ اس کی سالانہ مرکب شرح نمو 5.2 فیصد ہے جو ایک ایسی قومی صنعتی بنیاد بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی اہمیت کو بڑھاتی ہے جو بیک وقت مقامی مانگ کو پورا کرنے اور علاقائی مارکیٹوں میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے سدیر فارما کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر یاسر العبیداء نے کہا ہے کہ مملکت نے کورونا وبا سے حاصل ہونے والے اسباق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ادویاتی سکیورٹی کو مضبوط بنانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ کورونا وبا نے ایسی مقامی مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کے مالک ہونے کی اہمیت کو واضح کیا ہے جو بحرانوں کے وقت ادویات کی سپلائی کے تسلسل کو یقینی بناتی ہیں۔

مقامی مینوفیکچرنگ کا تناسب

ڈاکٹر یاسر نے کہا کہ ادویاتی سکیورٹی اب قومی سکیورٹی کے نظام کا حصہ بن چکی ہے کیونکہ مملکت بنیادی ادویات کی مقامی مینوفیکچرنگ کا تناسب بڑھانے، خام مال کے ذرائع کو متنوع بنانے اور حیاتیاتی ادویات کا سٹریٹجک سٹاک بنانے پر کام کر رہی ہے تاکہ عالمی سپلائی چین کے اتار چڑھاؤ سے وابستہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔

مقامی بنانے کے تناسب میں اضافہ

ڈاکٹر یاسر العبیداء نے مزید کہا کہ مملکت، بعض مخصوص ادویات اور فعال اجزاء کے لیے درآمدات پر مسلسل انحصار کے باوجود، دوا سازی کی صنعت کو مقامی بنانے میں نمایاں ترقی حاصل کر چکی ہے۔ قومی معیشت میں اس شعبے کے تعاون کو بڑھانے اور اس کی لچک کو مضبوط کرنے کے لیے ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے تحت واضح اہداف موجود ہیں۔

سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی

سدیر فارما کے سی ای او نے یہ بھی کہا کہ ایک مسابقتی قومی دوا سازی کی صنعت کی تعمیر کئی تکمیلی محوروں پر منحصر ہے جن میں سب سے نمایاں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے عالمی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی ادویات، کینسر کی ادویات، ویکسین اور پلازما کے مرکبات کی مینوفیکچرنگ کو وسعت دینا ہے۔

جدید صنعتی بنیاد

انہوں نے کہا کہ تحقیق و ترقی کے نظام کو تیار کرنا اور اسے یونیورسٹیوں اور اختراعی مراکز سے جوڑنا اور اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھتے ہوئے ریگولیٹری طریقہ کار کو تیز کرنا جدید صنعتی بنیاد کی تعمیر کے بنیادی عوامل ہیں۔ اسی طرح مقامی مواد اور سرکاری خریداریوں کی حمایت کرنا بھی ایک جدید صنعتی بنیاد کی تعمیر کے لیے بنیادی عوامل کی نمائندگی کرتے ہیں۔

پرکشش خصوصیات

اسی تناظر میں سدیر فارما کے سی ای اونے بتایا کہ سعودی عرب کے پاس اب ایسی خصوصیات موجود ہیں جو اسے دوا سازی کی صنعتوں کے لیے ایک علاقائی مرکز بننے کے قابل بنا دیتی ہیں۔ جدید صنعتی انفراسٹرکچر، سٹریٹجک لاجسٹک پوزیشن اور مسلسل سرکاری تعاون کی روشنی میں سعودی عرب کے لیے ادویات کی صنعت کو مقامی بنانا اب محض ایک معاشی انتخاب نہیں رہا بلکہ عالمی صحت کے بحرانوں کے پیش نظر قومی تیاری کو بڑھانے کے لیے ایک سٹریٹجک ضرورت بن چکا ہے۔

سپلائی میں تعطل کے خطرات

انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی ادویات اور حیاتیاتی مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے قومی کارخانوں کا ہونا صحت کی ہنگامی صورتحال کا فوری جواب دینے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ سپلائی میں تعطل کے خطرات کو کم کرتا ہے، قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھتا ہے اور ہسپتالوں اور مریضوں کے لیے ادویات کی مسلسل فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ اس کے علاوہ سپلائی چین کی لچک کو بڑھانے اور قومی صحت کی سکیورٹی کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔

ادویات کے زیاں کا چیلنج

ادویات کی سکیورٹی سے متعلق ہی بات کرتے ہوئے العبیداء اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ ادویات کا زیاں ایک عالمی صحت اور معاشی چیلنج کی نمائندگی کر رہا ہے۔ اس کی وجوہات میں اصل ضرورت سے زیادہ مقدار میں ادویات دینا، انوینٹری مینجمنٹ کی کمزوری، ادویات کی میعاد ختم ہونے اور بعض مریضوں کے علاج کے منصوبوں پر عمل نہ کرنا ہے۔ اسی طرح ایک سے زیادہ مقامات سے بار بار نسخے لینا بھی ادویات کے زیاں سے منسلک ہے۔

ادویاتی ریکارڈ کی یکجائی

العبیداء اس رجحان سے نمٹنے کے لیے کچھ طریقے بتاتے ہیں جن کے لیے ایک مربوط نظام کی ضرورت ہے جس میں الیکٹرانک ادویاتی ریکارڈ کو یکجا کرنا، انوینٹری مینجمنٹ کے لیے سمارٹ سسٹمز کا اطلاق کرنا اور اصل ضرورت کے مطابق ادویات کی فراہمی کے طریقہ کار کو بہتر بنانا شامل ہے۔

زیاں سے بچنے کے لیے ادویات کے عقلی استعمال کی ثقافت کو فروغ دینا، کھپت کی پیش گوئی کرنے کے لیے ڈیٹا اینالیٹکس کا فائدہ اٹھانا اور ریگولیٹری ضوابط کے مطابق ادویات کی میعاد ختم ہونے سے پہلے صحت کے اداروں کے درمیان انوینٹری کو دوبارہ تقسیم کرنا بھی معاون ہے۔

ڈاکٹر یاسر کا تصور ہے کہ ادویات کے زیاں کو کم کرنے کا اثر صرف اخراجات کو کم کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایسے مالی وسائل فراہم کرتا ہے جنہیں سائنسی تحقیق، اختراع اور قومی دوا سازی کی صنعتوں کی ترقی کی طرف دوبارہ موڑ دیا جا سکتا ہے۔

مصنوعہ ذہانت ایک معاون قوت

سدیر فارما کے سی ای او نے یہ بھی واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت ان سب سے نمایاں معاون قوتوں میں سے ہوگی جو آنے والے سالوں کے دوران آبادیاتی اور وبائی امراض کے ڈیٹا کی بنیاد پر مانگ کی پیش گوئی کرنے، فوری طور پر انوینٹری کا انتظام کرنے اور ادویات کی کمی یا بیشی کی توقع ہونے پر قبل از وقت وارننگ جاری کرنے کے ذریعے ادویات کے شعبے کو ازسرنو تشکیل دے گی۔

ٹیکنالوجیز اور سپلائی چین کی کارکردگی

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سپلائی چین کی کارکردگی کو بہتر بنانے، مینوفیکچرنگ کے مراحل سے لے کر مریض تک پہنچنے تک ادویاتی مصنوعات کا سراغ لگانے اور خریداری اور تقسیم کے فیصلوں کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ صنعتی عمل کی کارکردگی کو بڑھانے اور پیداوار کے دوران نقصان کو کم کرنے میں بھی حصہ ڈالیں گی۔

مربوط قومی نظام

سعودی عرب جس ڈیجیٹل تبدیلی کی گواہ بن رہا ہے وہ ایک ایسے مربوط قومی نظام کی تعمیر کی اجازت دے گی جو مینوفیکچرر، گودام، ہسپتال اور فارمیسی کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے اندر جمع کرے گا ۔ اسی طرح یہ نظام ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت پر انحصار کرے گا جس سے ادویات کے پورے شعبے کے انتظام کی کارکردگی بہتر ہوگی۔

اختراع پر مبنی صنعت

العبیداء کے مطابق مملکت روایتی مینوفیکچرنگ پر اکتفا کرنے کے بجائے اختراع اور جدید ٹیکنالوجیز پر مبنی دوا سازی کی صنعت کی تعمیر کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلا مرحلہ مقامی طور پر سٹریٹجک ادویات کی مینوفیکچرنگ کا تناسب بڑھانے، حیاتیاتی صنعتوں کو مقامی بنانے اور عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر مشتمل ہوگا۔ اس اگلے مرحلے میں تحقیق و ترقی کو فروغ دینا اور مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا کی مارکیٹوں میں برآمدات کی توسیع کے ساتھ بیرونی مارکیٹوں میں سعودی مصنوعات کی مسابقت کو بڑھانا بھی ایک ہدف ہوگا۔

برآمدی صنعت کی تعمیر

اس کا مقصد تمام ادویاتی مصنوعات میں مکمل خود کفالت حاصل کرنا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے بڑی معیشتیں بھی حاصل نہیں کر پاتیں بلکہ ترجیحی اور سٹریٹجک اہمیت کی حامل ادویات میں خود کفالت کی اعلیٰ سطح تک پہنچنا ہے۔ مقصد ایک ایسی برآمدی صنعت کی تعمیر کرنا ہے جو علاقائی اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

تبدیلی کا مرحلہ

ڈاکٹر یاسر العبیداء نے مزید کہا کہ مملکت میں دوا سازی کی صنعتوں کا شعبہ سرمایہ کاری، اختراع، بائیوٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور قومی صلاحیتوں کی ترقی کی بدولت ایک تاریخی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ یہ مرحلہ سعودی عرب کو آنے والے سالوں میں خطے میں دوا سازی کی صنعتوں کے سب سے نمایاں مراکز میں سے ایک بننے کی راہ پر گامزن کر رہا ہے۔ اس سے صحت کی سکیورٹی مضبوط ہوگی، معاشی تنوع کو مدد ملے گی اور مملکت کے ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگی بھی پیدا ہوگی۔

قومی سٹریٹجک منصوبہ

سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے بات کرتے ہوئے ادویات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے عمر الخراشی نے انکشاف کیا کہ سعودی عرب نے ایک واضح قومی سٹریٹجک منصوبے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ادویاتی سکیورٹی کو مضبوط بنانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد دوا سازی کی صنعتوں کو مقامی بنانا اور خود کفالت کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

نمایاں تبدیلیاں

ریاض چیمبر میں انڈسٹری اینڈ انرجی کمیٹی کے رکن الخراشی نے بھی اس حوالے سے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے خصوصی گفتگو کی۔ الخراشی نے کہا کہ سعودی عرب میں دوا سازی کی صنعتوں کے نقشے میں حالیہ برسوں کے دوران ایک نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ رجسٹرڈ ادویات کے کارخانوں کی تعداد 2020 میں تقریباً 40 کارخانوں تھی جو بڑھ کر 2025 میں تقریباً 85 کارخانوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو اس شعبے میں ہونے والی ترقی کے حجم اور اس کے اہداف کی مسلسل نگرانی کی عکاسی کر رہی ہے۔

بڑے پیمانے پر ترغیب

الخراشی نے کہا کہ سعودی عرب میں متعلقہ حکام نے دوا سازی کی صنعتوں میں کام کرنے والی بڑی عالمی کمپنیوں کو راغب کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس کے لیے مملکت کی طرف سے فراہم کردہ سرمایہ کاری کے ممکنات اور مراعات کا تعارف کرایا گیا ہے۔

ان کمپنیوں کو سعودی عرب کے اندر کارخانے قائم کرنے یا قومی کارخانوں میں علم اور ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال کے دوران کارخانوں کی تعداد کا دگنا ہونا ایک ایسی صنعتی بنیاد کی تعمیر میں ان کوششوں کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے جو علاقائی اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

صحت کے بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی ضمانت

دوا کی صنعت کو مقامی بنانا صحت کے بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مملکت کی تیاری کو بڑھانے کے اہم ترین عوامل میں سے ایک ہے۔ یہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ خود کفالت کے تناسب کو بڑھانے اور مقامی مواد کو مضبوط بنانے میں حصہ ڈالتا ہے۔ یہ خاص طور پر حیاتیاتی اور سٹریٹجک مصنوعات میں ادویات کی سپلائی چین کے تسلسل کو یقینی بنانے اور بیرونی مارکیٹوں پر انحصار کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ریگولیٹری حل

جہاں تک ادویات کے زیاں کا تعلق ہے الخراشی نے اس معاملے کو ایک صحت اور معیشت کا چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ حکام نے سائنسی اور ریگولیٹری حل کے ذریعے شروع ہی سے اس کا مقابلہ کیا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں ادویات، آلات اور طبی سامان کی مشترکہ خریداری کے لیے نیشنل کمپنی "نوبکو" کا قیام اور اسے فعال کرنا شالم ہے۔ یہ نیشنل کمپنی ادویات کی ضروریات کی نگرانی اور خریداری کے عمل کو ہم آہنگ کرنے کی ذمہ دار ہے۔ یہ اضافی مقدار کو روکنے، زیاں کو کم کرنے اور اخراجات کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں حصہ ڈالتی ہے۔

انوینٹری مینجمنٹ کی ترقی

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ادویات کا شعبہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے شعبوں میں سے ایک ہے جہاں سعودی کمپنیاں اور کارخانے انوینٹری کا انتظام کرنے، مانگ کی پیش گوئی کرنے اور مقامی اور غیر ملکی مارکیٹوں کی ضروریات کا مطالعہ کرنے کے لیے جدید نظاموں پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ وہ امر ہے جس نے ادویات کے زیاں کی سطح کو کم کرنے میں حصہ ڈالا، اس کے ساتھ ساتھ قومی کارخانوں کو عالمی مارکیٹوں میں برآمدات بڑھانے کے قابل بنایا۔

برآمدات کی مسابقت

الخراشی نے بتایا کہ اگلا مرحلہ دوا سازی کی صنعتوں کو مقامی بنانے کے سلسلے کو جاری رکھنے اور علم اور جدید ٹیکنالوجیز کی منتقلی کے لیے عالمی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کرے گا۔ اس سے خود کفالت کا تناسب بڑھے گا اور سعودی ادویات کی برآمدات کی مسابقت مضبوط ہوجائے گی۔ انہوں نے تاکید کی کہ سعودی وزارت صنعت ایسے تیز رفتار اقدامات کے مطابق کام کر رہی ہے جن کا اظہار دوا سازی کی صنعتوں، ویکسین اور بائیوٹیکنالوجی کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی انتظامیہ کے قیام سے بھی ہوتا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد شعبے کی ترقی، اس کے مقامی بننے کی رفتار کو تیز کرنے اور اس کے مستقبل کے اہداف کو حاصل کرنے میں مدد کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں