بیبی بومر نسل اپنے پرانے سامان کو کیوں نہیں چھوڑتی؟ماہرینِ نفسیات کا انکشاف
جنریشن وائی (ملینیلز)، جن کے والدین کا تعلق بیبی بومر نسل سے ہے، اپنے بزرگ والدین کی بعض عادات پر کھل کر ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں۔
پہلے وہ والدین کی ضرورت سے زیادہ خوراک ذخیرہ کرنے کی عادت پر تنقید کرتے تھے، جبکہ اب ان کی شکایت یہ ہے کہ بیبی بومر نسل نے اپنے گھروں میں غیر ضروری اور برسوں سے استعمال نہ ہونے والا بے شمار سامان جمع کر رکھا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ پر ملینیلز نے اس حوالے سے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والدین کے گھروں میں پرانا اور غیر استعمال شدہ سامان اس قدر زیادہ ہے کہ ایک دن یہی سب کچھ وراثت میں انہیں ملے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال انہیں پریشان کرتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے والدین غیر ضروری اشیا سے جان چھڑا لیں۔
اشیا سے جذباتی وابستگی کی نفسیات
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ڈینیئل گلیزر نے ویب سائٹ Upworthy سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیبی بومر نسل نے جنگِ عظیم کے بعد کے اس دور میں پرورش پائی، جب راشن بندی، معاشی مشکلات اور اقتصادی بحالی کا عمل جاری تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ بیبی بومر نسل کی پرانی اشیا کو سنبھال کر رکھنے اور انہیں نہ چھوڑنے کی عادت پر اکثر تنقید کی جاتی ہے، لیکن جب ان کی اس وابستگی کو نفسیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ان کا یہ رویہ زیادہ قابلِ فہم اور منطقی محسوس ہوتا ہے۔
وقت کے ساتھ اپنائی گئی عادت
ڈاکٹر ڈینیئل گلیزر کے مطابق زیادہ عرصہ پہلے کی بات نہیں کہ اشیا کو سنبھال کر رکھنا ایک عملی اور حالات کے مطابق اپنائی گئی عادت تھی۔ شاید بعد میں اس کی ضرورت پڑ جائے جیسے جملے ان گھروں میں عام تھے جہاں نئی چیز خریدنا نہ آسان تھا اور نہ ہی ہر کسی کی استطاعت میں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ برسوں بلکہ پوری زندگی کے دوران لوگوں کے اردگرد موجود رہنے والی اشیا ان کے لیے جذباتی تحفظ اور سکون کا ذریعہ بھی بن جاتی ہیں، اسی لیے ان سے الگ ہونا ان کے لیے آسان نہیں ہوتا۔
نفسیاتی کشمکش
بہت سے بیبی بومر افراد کے لیے پرانی اشیا سے جان چھڑانا محض صفائی یا جگہ بنانے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک گہری نفسیاتی کشمکش ہوتا ہے۔
جامع نفسیاتی معالج ایسن پینارلی کے مطابق جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، انسان کو اپنی فانی زندگی کا احساس زیادہ ہونے لگتا ہے۔ ایسے میں پرانی اشیا کو چھوڑنا گویا اپنی زندگی کے گزرے ہوئے ادوار سے دستبردار ہونے کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔
اگر ان یادوں یا زندگی کے ان ادوار کا کوئی ذکر نہ کرے تو یہی اشیا ان تجربات کی اہمیت کا ایک ٹھوس ثبوت بن جاتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے یہ رویہ ضد یا ہٹ دھرمی نہیں، بلکہ جذباتی وابستگی، زندگی کے تجربات میں معنی تلاش کرنے اور اس خوف سے جڑا ہوتا ہے کہ کہیں ان کی اہمیت یا ان کی زندگی کی کہانی کے کچھ حصے ہمیشہ کے لیے مٹ نہ جائیں۔
مدد کیسے کی جائے؟
ماہرین کے مطابق اگر بیبی بومر نسل کے والدین سے ہمدردی، احترام اور سمجھ بوجھ کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا جائے تو نہ صرف غیر ضروری اشیا سے جان چھڑانے کا عمل آسان ہو سکتا ہے بلکہ والدین اور اولاد کے تعلقات بھی مضبوط ہوتے ہیں۔
اس سلسلے میں ملینیلز اپنے والدین سے بات کرتے ہوئے یوں کہہ سکتے ہیں: میں جانتا ہوں کہ یہ چیزیں آپ کے لیے بہت اہم ہیں، میں ان میں سے کچھ کی کہانی سننا چاہوں گا۔
نفسیاتی معالج ایسن پینارلی کے مطابق، اس طرح کی بات چیت توجہ کو صرف اشیا کو پھینکنے سے ہٹا کر ان سے وابستہ یادوں اور جذبات کی قدر کرنے پر مرکوز کر دیتی ہے۔ جب والدین خود کو سمجھا گیا اور ان کی قدر کی گئی محسوس کرتے ہیں تو وہ وقت آنے پر ان اشیا سے الگ ہونے کے لیے زیادہ آمادہ ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ لوگوں کی وابستگی دراصل مادی اشیا سے نہیں بلکہ ان سے جڑی یادوں، اپنی شناخت اور زندگی کی کہانی سے ہوتی ہے۔
فیصلے کی آزادی دینا
ماہرین کے مطابق گفتگو کا ایک اور مؤثر انداز یہ ہو سکتا ہے کہ والدین سے پوچھا جائے: آپ کن چیزوں کو سنبھال کر رکھنے میں اطمینان محسوس کرتے ہیں، اور کون سی چیزیں اب صرف جگہ گھیر رہی ہیں؟
نفسیاتی معالج ایسن پینارلی کے مطابق، اس طرح کا سوال والدین کو فیصلہ کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ انہیں یہ بتانے کے بجائے کہ کون سی چیزیں پھینک دینی چاہییں، نہایت شائستگی سے انہیں خود غور کرنے کا موقع دیا جاتا ہے کہ کون سی اشیا اب بھی ان کے لیے اہم ہیں اور کون سی اپنی افادیت کھو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب والدین کو یہ احساس ہو کہ فیصلے کا اختیار انہی کے پاس ہے تو ان کے دفاعی ردِعمل میں کمی آتی ہے اور وہ غیر ضروری اشیا سے دستبردار ہونے کے لیے زیادہ آمادہ ہو جاتے ہیں۔
تعاون اور حوصلہ افزائی
نفسیاتی معالج ایسن پینارلی نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ غیر ضروری اشیا سے چھٹکارا پانے کے عمل کو ایک مشترکہ اور معاون کوشش بنایا جانا چاہیے، نہ کہ اسے حکم یا مطالبے کی صورت میں پیش کیا جائے۔
ان کے مطابق، اس طرزِ عمل سے والدین کو یہ اطمینان ملتا ہے کہ ان کی یادیں، زندگی کے تجربات اور ورثہ نظرانداز نہیں کیے جائیں گے اور نہ ہی مٹا دیے جائیں گے۔
یہی احساس ان کے لیے پرانی اشیا سے وابستہ جذباتی بوجھ کو کم کرنے اور وقت آنے پر انہیں چھوڑنے کو نسبتاً آسان بنا سکتا ہے۔