35 بھیڑیں اور لاکھوں لیرا، ترکیہ میں شادی کی تقریب سوشل میڈیا پر چھا گئی
دولہا دلہن کو دیے گئے تحائف کی مالیت تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی
ترکیہ کے جنوب مشرقی صوبے شرناق میں منعقد ہونے والی ایک شادی کی تقریب گذشتہ دو روز سے میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ اس شادی میں دولہا اور دلہن کو 6 ملین ترک لیرا یعنی تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر کے تحائف دیے گئے، جبکہ مہمانوں کے لیے 35 بھیڑیں ذبح کر کے ایک ضخیم دعوت کا اہتمام کیا گیا جس میں ترکیہ کے اندر اور باہر سے ہزاروں مہمانوں نے شرکت کی۔
یہ تقریب بوشہاب علاقے کے گاؤں موتلوجا میں منعقد ہوئی جو دو دن تک جاری رہی۔ شادی میں پڑوسی دیہاتوں اور بیرون ملک سے آئے ہزاروں مہمانوں نے شرکت کی، جبکہ جشن کے دوران مشہور روایتی رقص "ہالائے" کا مظاہرہ کیا گیا اور ترکیہ کا ایک بڑا پرچم لہرایا گیا۔
ترکیہ کے میڈیا ذرائع کے مطابق دولہا اور دلہن کو دیے گئے تحائف کی مالیت 6 ملین ترک لیرا تھی، جس میں دلہن کے لیے سونے کے زیورات اور دولہا کے لیے نقدی شامل تھی۔
شادی کی دعوت تیار کرنے کے لیے 35 بھیڑیں ذبح کی گئیں تاکہ شریک ہجوم کو کھانا کھلایا جا سکے۔ اس منظر نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر ردعمل پیدا کیا جہاں صارفین نے تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔
دولہا کے نمائندے سیف اللہ انجن نے کہا کہ تحائف کی مالیت کافی زیادہ تھی لیکن خاندان کے لیے سب سے اہم چیز حاضرین کے درمیان یکجہتی اور بھائی چارے کا جذبہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر 2 لاکھ 50 ہزار لیرا (تقریباً 6.3 ہزار ڈالر) کا تحفہ دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بحث
دوسری طرف دلہن روجین ارجان نے شادی کے ماحول پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہل خانہ اور دوستوں کی شرکت ہی ان کے لیے سب سے اہم یادگار ہے۔ جبکہ دولہا کے چچا نے ترکیہ کے اندر اور باہر سے آنے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ تقریب علاقے کے لوگوں کی یادوں میں ہمیشہ تازہ رہے گی۔
اس تقریب نے ترکیہ کے سوشل میڈیا صارفین کے درمیان ایک بڑی بحث چھیڑ دی ہے۔اس شادی پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا۔ کچھ لوگوں نے اسے ورثے میں ملنے والی روایات اور اقدار کا اظہار قرار دیا، جبکہ دیگر کا ماننا تھا کہ موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر شادیوں پر اتنی زیادہ رقم خرچ کرنا مبالغہ آرائی کے مترادف ہے۔
ترکیہ کے کچھ علاقوں، خاص طور پر جنوب مشرقی صوبوں میں جہاں قبائلی روایات کا غلبہ ہے، ایسی شادیاں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہیں۔ وہاں عظیم الشان تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے جو کبھی کبھی کئی دنوں تک جاری رہتی ہیں اور ہزاروں مہمان شرکت کرتے ہیں۔ ان تقریبات میں دولہا دلہن کو نقد اور سونے کے بڑے تحائف دیے جاتے ہیں جو سماجی روایات کا حصہ اور ان کی ازدواجی زندگی کے آغاز کے لیے تعاون سمجھے جاتے ہیں۔
گذشتہ برسوں کے دوران ترکیہ میں کئی شادیاں اپنے اخراجات، تحائف کی مالیت یا مہمانوں کی تعداد کی وجہ سے خبروں کی سرخیوں میں رہی ہیں۔ بعض مواقع پر تحائف کی مالیت لاکھوں ڈالر سے تجاوز کر گئی، جبکہ کچھ میں بڑی مقدار میں سونا پیش کیا گیا یا درجنوں مویشی ذبح کر کے دعوتیں دی گئیں۔ یہ واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ زندگی گزارنے کے اخراجات میں نمایاں اضافے کے باوجود کچھ علاقوں میں یہ روایات آج بھی برقرار ہیں۔
-
ترکیہ میں داعش سے تعلق کے الزام میں 119 ملزمان گرفتار
ترک وزارتِ داخلہ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ حکام نے پورے ملک میں 119 افراد کو گرفتار ...
مشرق وسطی -
شادی شدہ زندگی کے ماہرین بھی آپس میں جھگڑتے ہیں، پھر انجلینا جولی کا جملہ کام آتا ہے
’’ مجھے وقفے کی ضرورت ہے‘‘ کے تحت بحث روکی جاتی، جوڑے پیچیدہ مسائل پر بھی تعمیری ...
ایڈیٹر کی پسند -
بیبی بومر نسل اپنے پرانے سامان کو کیوں نہیں چھوڑتی؟ماہرینِ نفسیات کا انکشاف
جنریشن وائی (ملینیلز)، جن کے والدین کا تعلق بیبی بومر نسل سے ہے، اپنے بزرگ والدین ...
بين الاقوامى