لبنانی صدر جوزف عون اس ہفتے وائٹ ہاؤس کا اپنا پہلا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دورے کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ایک منصوبہ پیش کرنا ہے جس کے تحت ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ہتھیاروں کو تلف کرنے اور لبنان سے اسرائیلی انخلا کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
جوزف عون گذشتہ برس صدر منتخب ہونے سے قبل امریکی حمایت یافتہ لبنانی فوج کے کمانڈر تھے۔ وہ گذشتہ 20 برسوں میں وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے لبنانی صدر ہیں جہاں وہ پہلی بار ٹرمپ سے بالمشافہ ملاقات کریں گے۔
منگل کے روز ہونے والی یہ ملاقات لبنان کے لیے ایک نازک موڑ پر ہو رہی ہے۔ اس وقت اسرائیلی فوج لبنان کے جنوبی حصے کے ایک بڑے رقبے پر قابض ہیں اور اسرائیلی حملوں کے بعد لاکھوں لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ حکومت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات اور ریاست کی جانب سے گروپ کے ہتھیاروں کو تلف کرنے کی کوششوں کی شدید مخالفت کر رہی ہے۔
صدر عون نے گذشتہ ہفتے اپنے دفتر سے جاری کردہ بیانات میں کہا کہ وہ ٹرمپ سے مطالبہ کریں گے کہ وہ اسرائیل پر ضروری دباؤ ڈالیں تاکہ سنہ 2026ء کی 26 جون کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے پر عمل درآمد ہو سکے جس میں امریکہ نے ثالثی کی تھی۔ اس معاہدے کا مقصد حزب اللہ کے ہتھیاروں کو تلف کرنا، اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا اور دونوں ممالک کے درمیان پرامن تعلقات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ایک لبنانی عہدیدار نے بتایا کہ عون ٹرمپ کو ایک تحریری تجویز پیش کریں گے جس میں حزب اللہ کے وسیع ہتھیاروں کے ذخیرے کو تلف کرنے کا طریقہ کار شامل ہے۔ عہدیدار کے مطابق عون کا ماننا ہے کہ صرف ٹرمپ ہی وہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں جس سے اسرائیل کو اپنی افواج واپس بلانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے اور لبنان کی خودمختاری کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔
حزب اللہ کے ہتھیاروں کی تلفی
باسٹھ سالہ جوزف عون نے گذشتہ برس ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے آغاز سے قبل لبنان کی صدارت سنبھالی تھی۔ امریکہ نے عون کے انتخاب کا خیرمقدم کیا تھا۔ مارونی مسیحی صدر کا انتخاب لبنان کے طاقت کی شراکت داری کے نظام کے مطابق ہوا جس کے تحت وزیراعظم سنی مسلمان اور پارلیمنٹ کا سپیکر شیعہ مسلمان ہونا ضروری ہے۔ عون دو بار زخمی ہوئے اور اب بھی ایک گولی کے ٹکڑے کا زخم ان کے جسم میں موجود ہے۔
ان کا عروج لبنان میں طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت تھا۔ یہ تبدیلی سنہ 2024ء میں حزب اللہ پر اسرائیلی حملے اور گروپ کے اتحادی، سابق شامی صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد رونما ہوئی۔ یہ ایسے واقعات تھے جنہوں نے گروپ کو کمزور کر دیا اور ریاست پر اس کے طویل اور فیصلہ کن کنٹرول کو ختم کر دیا۔ حلف برداری کی تقریب میں عون نے اس بات کا اعادہ کیا کہ لبنان میں صرف ریاست کے پاس ہتھیار ہونے کا حق ہے۔
ان کی صدارت کا پہلا سال حزب اللہ کے ہتھیار تلف کرنے کی حکومتی کوششوں سے عبارت رہا۔ اس گروپ کو ایرانی پاسداران انقلاب نے سنہ 1982ء میں قائم کیا تھا اور اس نے اسرائیل کے ساتھ متعدد جنگیں لڑی ہیں۔ لبنان کے جنوبی علاقوں میں لبنانی فوج تعینات کی گئی تاکہ حزب اللہ کے اسلحہ خانوں کو کنٹرول کیا جا سکے، یہ اقدام سنہ 2024ء کی جنگ کے بعد طے پانے والی جنگ بندی کے مطابق تھا۔ اس دوران حزب اللہ نے، جو اپنی طاقت کھو چکی تھی، اس کی مخالفت نہیں کی۔
نئی جنگ کا آغاز
تاہم عون کی صدارت کے دوسرے سال کے آغاز میں ایک نئی جنگ چھڑ گئی جب حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر فائرنگ کی، جس پر ایران کو امریکی اسرائیلی حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ حزب اللہ کے حملے کے بعد اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی اور زمینی مہم شروع ہوئی، جس کے بارے میں لبنانی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس میں 4300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں تقریباً 800 بچے، خواتین اور طبی عملے کے ارکان شامل ہیں۔ ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں شہری اور عسکریت پسندوں کے درمیان فرق نہیں بتایا گیا۔ حزب اللہ نے اپنے ہلاک ہونے والے ارکان کی تعداد ظاہر نہیں کی۔
جنگ شروع ہونے کے بعد عون نے جلد ہی اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کیا جو سنہ 1978ء سے بار بار اسرائیل کے حملوں کا شکار ہونے والے ملک کے لیے ایک تاریخی تبدیلی تھی۔ اس کے نتیجے میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان دہائیوں میں اعلیٰ ترین سطح کے براہ راست رابطے ہوئے۔ اس اقدام کی وجہ سے لبنانی صدر حزب اللہ اور اس کے حامیوں کی جانب سے سخت تنقید کی زد میں آ گئے۔
صدر عون اپنے موقف پر قائم رہے اور انہوں نے ایران کی خاطر لبنان کو تباہ کرنے پر حزب اللہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم عون نے ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات کی دعوت کو قبول کرنے تک کا فیصلہ نہیں کیا۔
فوجی پس منظر
عون کی پیدائش بیروت کے مشرقی مضافاتی علاقے سن الفیل میں ہوئی اور ان کا خاندانی تعلق جنوبی لبنان سے ہے۔ انہوں نے سنہ 1985ء میں لبنانی خانہ جنگی کے دوران (کمانڈو رجمنٹ) میں اپنے پہلے عسکری فرائض سرانجام دیے۔ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے شامی لبنانی سرحد پر داعش کے عسکریت پسندوں کو نکالنے کے لیے مہم کی نگرانی کی۔
عون نے سنہ 2019ء میں لبنان میں مالی بحران کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں فوج کی قیادت کی، جس نے دہائیوں کی حکومتی بدعنوانی اور بدانتظامی کے بعد لبنانی کرنسی کو شدید متاثر کیا۔ اس وقت عون نے خبردار کیا تھا کہ بحران ریاست کی "ریڑھ کی ہڈی" یعنی لبنانی فوج کے خاتمے کا سبب بنے گا۔
ایک فوجی کمانڈر کے لیے غیر روایتی سیاسی بیان میں عون نے بدترین حالات میں حکمران سیاستدانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فوجی باقی آبادی کی طرح بھوکے ہیں اور انہوں نے سیاستدانوں سے سوال کیا کہ "تمہارا کیا ارادہ ہے؟"۔ ان کا انتخاب سنہ 2022ء میں حزب اللہ کے اتحادی میشیل عون کی مدت ختم ہونے کے بعد دو سال تک جاری رہنے والے صدارتی تعطل کے خاتمے کا باعث بنا۔ انہوں نے طویل عرصے سے منتظر معاشی اصلاحات اور بیروت بندرگاہ دھماکے کے متاثرین کو انصاف دلانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔