رفح میں محصور حماس کے جنگجوؤں کا بحران ... ترکیہ ثالثی کر رہا ہے
حماس کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ انقرہ ثالثوں میں شامل ہے، لیکن انھہوں نے مذاکرات کی تفصیلات بیان نہیں کیں اور کہا کہ یہ ایک حساس سیکیورٹی معاملہ ہے.
غزہ کی پٹی میں "رفح کی سرنگوں میں پھنسے جنگجوؤں" کا مسئلہ اب بھی زیرِ بحث ہے۔ اس سلسلے میں ایک فلسطینی ذریعے، حماس کے ایک عہدے دار اور ترک حکام نے تصدیق کی ہے کہ ترکیہ، امریکہ اور عرب ثالثوں کے ساتھ مل کر ان حماس کے جنگجوؤں کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو جنوبی غزہ میں اسرائیلی کنٹرول والے علاقے کے نیچے موجود سرنگوں میں محصور ہیں۔
ایک فلسطینی ذریعے نے جو ثالثی کی کوششوں سے واقف ہے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ انقرہ حکومت مصر، قطر اور امریکہ کے ساتھ مل کر ان جنگجوؤں کے مستقبل پر ثالثی میں کردار ادا کر رہی ہے۔
دو ترک حکام نے جن میں سے ایک صدر رجب طیب اردوان کی جماعت کا ترجمان ہے ... تصدیق کی کہ ترکیہ تقریباً 200 فلسطینی جنگجوؤں کے معاملے میں ثالثی کر رہا ہے، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
حماس کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ترکیہ ثالثوں میں شامل ہے، مگر ساتھ واضح کیا کہ مذاکرات ایک انتہائی حساس سیکیورٹی مسئلے سے متعلق ہیں، اس لیے تفصیلات نہیں بتائی جا سکتیں۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے ترکیہ کے کردار سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
گزشتہ ہفتے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے کہا تھا کہ یہ مسئلہ غزہ میں وسیع تر جنگ بندی منصوبے کے اگلے مراحل کے لیے ایک آزمائشی قدم ثابت ہو گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے کو جنگجوؤں کے لیے محفوظ راستہ فراہم کر کے حل کیا جا سکتا ہے، تاکہ وہ غزہ کے ان علاقوں میں منتقل ہو سکیں جو حماس کے کنٹرول میں ہیں۔
امریکی ایلچی جیرڈ کشنر نے بھی پیر کے روز نیتن یاہو سے ملاقات کی، جس میں رفح میں محصور جنگجوؤں کا مسئلہ اور امریکی منصوبے کے اگلے مرحلے پر تبادلہ خیال ہوا۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے یہ اطلاع ملی تھی کہ اسرائیلی کنٹرول والے علاقے میں محصور حماس کے جنگجو اپنے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہیں، بشرطیکہ انہیں غزہ کے دیگر علاقوں میں جانے کی اجازت دی جائے۔
ابھی تک حماس نے جنگجوؤں کی صحیح تعداد کی تصدیق نہیں کی، مگر تنظیم نے پہلے مطالبہ کیا تھا کہ انھیں ان علاقوں میں جانے کی اجازت دی جائے جو حماس کے زیرِ انتظام ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے اب تک اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق تقریباً 200 جنگجوؤں کی قسمت نے غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ مذاکرات اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری ہیں اور ان کا مقصد دو سال سے جاری جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک نئے مرحلے کی راہ ہموار کرنا ہے۔