روحانی صدارت کے پہلے دن باغیوں کی سلامی، اہواز میں گیس پائپ لائن تباہ
دھماکے سے پیٹروکیمیکل فیکٹریوں کو گیس کی سپلائی معطل
ایران میں نو منتخب صدر حسن روحانی کے باضابطہ طور پر اقتدارسنھبالنے کے پہلے ہی دن ملک کے عرب اکثریتی صوبہ اہواز میں باغیوں نے مرکزی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی جس کے بعد صوبہ اہواز سے "ماھشہر" بندرگاہ کے درمیان گیس کی سپلائی معطل ہو گئی ہے۔
صوبہ اہواز کی ایران سے آزادی کے لیے سرگرم تنظیم"حرکت بیداری عرب برائے آزادی اہواز" نے گیس پائپ لائن پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان یعقوب حر نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ گیس پائپ لائن کو تباہ کرنے کا کارنامہ ان کی تنظیم کے عسکری ونگ محی الدین آل ناصر بریگیڈ نے انجام دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اہواز سے نکالی جانے والی قدرتی گیس کو "ماھشہر" بندرگاہ میں ایتھین گیس تیار کرنے والے کارخانوں کو فراہم کی گئی تھی۔ گیس پائپ لائن کو دھماکے سے تباہ کرنے کے لیے دیسی ساختہ بم استعمال کیے گئے، جس کے بعد اہواز سے ماھشہر کے کارخانوں کو گیس کی سپلائی معطل ہوگئی ہے۔
ادھر ایرانی ذرائع ابلاغ نے بھی صوبہ اھوازمیں ایک گیس پائپ لائن میں دھماکے کی خبر دی ہے۔ ایران کی نیم سرکری خبر رساں ایجنسی "مہر" کے مطابق اہواز کے قریب گیس پائپ لائن میں آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے ہیں تاہم حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام نے آگ پر قابو پانے کی کوششیں کی ہیں تاہم آخری اطلاعات تک آگ پرقابو نہیں پایا جاسکا تھا۔
خیال رہے کہ ایران کے عرب اکثریتی صوبہ اھواز کے باشندوں اور تہران سرکار کےدرمیان طویل مدت سے کشیدگی چلی آ رہی ہے۔ عرب شہریوں کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت نہ صرف ان کے ساتھ نسلی تعصب کا مظاہرہ کر رہی ہے بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت اھواز کے عرب باشندوں کے قومی تشخص کو ختم کیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ نسل یا قومیت کی بنیاد پر کسی فرقے سے امتیازی سلوک نہیں کر رہی ہے۔