برطرف صدر مرسی کے حامیوں اور پولیس میں جھڑپیں ،ایک ہلاک
اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنان کے برطرف صدر کے حق میں احتجاجی مظاہرے
مصر کے برطرف صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں نے نماز جمعہ کے بعد دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔مختلف جگہوں سے ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں جن میں ایک شخص ہلاک اور چودہ زخمی ہوگئے ہیں۔
ڈاکٹر مرسی کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنان نے قاہرہ کے جڑواں شہر جیزہ کے نواح میں اہرام مصر کی جانب جانے والی شاہراہ پرمظاہرہ کیا اور برطرف صدر کی بحالی کا مطالبہ کیا۔اس دوران ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔
قاہرہ میں اخوان کے کارکنان نے وزارت دفاع اور صدارتی محل کی جانب بھی مارچ کیا۔اخوان کے ہزاروں کارکنان نے دارالحکومت میں جامع مسجد رابعہ العدویہ کے باہر چوک میں سابقہ احتجاجی کیمپ کی جانب بھی مارچ کیا۔اس موقع پر پولیس اور فوج کی بھاری نفری موجود تھی۔
برطانوی خبررساں ادارے رائیٹَرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ مصری فوج کی ایک گاڑی سے مظاہرین کی جانب براہ راست فائرنگ کی گئی ہے۔اس سے پہلے سکیورٹی فورسز نے اخوان کے حامیوں کو میدان التحریر سے پیچھے دھکیل دیا تھا۔
مصر کی وزارت صحت نے مظاہرے میں شریک ایک شخص کی جھڑپ میں ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور چودہ زخمی ہوگئے ہیں۔مصری روزنامے یوم 7 سے وابستہ ایک صحافی محمود عابدی ایرادی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اخوان کے کارکنان نے میدان التحریر میں دھاوا بولنے کی کوشش کی تھی۔اس کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئیں۔اس صحافی نے اس اطلاع کی بھی تردید کی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی تھی بلکہ اس کے بہ قول سکیورٹی فورسز نے سرکاری املاک پر حملہ کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک اور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔