شامی حکومت پر''صنعتی پیمانے پر ہلاکتوں'' کا الزام
11 ہزار شامیوں کی دوران حراست ہلاکتوں سے متعلق تصاویری رپورٹ سامنے آ گئی
شامی صدر بشارالاسد کی حکومت اور ان کی وفادار فوج کے جنگی جرائم میں ملوث ہونے سے متعلق ایک نئی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں ان پر زیر حراست شامیوں کی ''صنعتی پیمانے پر ہلاکتوں'' اور تشدد کا الزام عاید کیا گیا ہے۔
31 صفحات کو محیط یہ رپورٹ جنگی جرائم کے تین سابق بین الاقوامی پراسیکیوٹرز نے تیار کی ہے اور یہ ایک منحرف شامی فوجی اور حزب اختلاف کے ایک حامی کے بیانات پر مبنی ہے۔اس رپورٹ میں شامیوں پر وحشیانہ تشدد کے تصاویری شواہد فراہم کیے گئے ہیں۔
اس رپورٹ میں شامل زیادہ تر معلومات اور تصاویر شامی ملٹری پولیس کے ایک منحرف اہلکار نے فراہم کی ہیں لیکن سکیورٹی وجوہ کی بنا پر اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔وہ ملٹری پولیس میں فوٹو گرافر کے طور پر کام کرتا رہا تھا۔
اس نے قطر کی مقرر کردہ قانونی فرم کے فورنزک ماہرین کو دوران حراست ہلاک کیے گئے گیارہ ہزار افراد کی قریباً پچپن ہزار ڈیجٹل تصاویر فراہم کی ہیں۔اس سابق اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تمام افراد دوران حراست ہی مارے گئے تھے اور اس کے بعد انھیں ایک فوجی اسپتال میں منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کی تصاویر بنائی گئی تھیں۔
ان میں سے بعض تصاویر رپورٹ کا حصہ ہیں۔ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض زیرحراست افراد کی آنکھیں نہیں ہیں جبکہ بعض کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا تھا یا انھیں بجلی کے جھٹکے دیے گئے تھے اور بہت سے زیرحراست افراد کو باندھ کر کسی خاص آلے سے مارا گیا تھا۔
اس رپورٹ کی تیاری میں غیر مصدقہ بیان اور تصاویری شواہد پر انحصار کیا گیا ہے۔اس کو سیرالیون کے لیے خصوصی عدالت کے سابق چیف پراسیکیوٹر ڈیسمنڈ ڈی سلوا،یوگوسلاویہ کے سابق صدر سلوبوڈان میلاسووچ کے خلاف ٹرائل کے پراسیکیوٹر جیفرے نائس ،لائبیریا کے سابق صدر چارلس ٹیلر کو ماخوذ کرنے والے پراسیکیوٹر ڈیوڈ کرین نے لکھاہے۔
ڈیسمنڈ ڈی سلوا نے برطانوی اخبار گارجین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فراہم کردہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے صنعتی پیمانے پر قتل عام کیا ہے۔پراسیکیوٹر ڈیوڈ کرین نے شواہد کو حیران کن قراردیا ہے اوران کے بہ قول ان سے پراسیکیوشن کا مضبوط کیس بنتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شام میں غائب کیے گئے لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا تھا،اس حوالے سے اب ہمارے پاس پہلا براہ راست ثبوت موجود ہے۔غائب کیے گئے گیارہ ہزار افراد کو جس طرح تشدد کا نشانہ بنا کر یا گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیا گیا،اس کا ان تصاویر سے پتا چلتا ہے۔
تینوں مصنفین نے اپنے مخبر اور اس کی فراہم کردہ معلومات کو قابل اعتبار قراردیا ہے۔ان کا کہنا ہے انھوں نے اس کی ہرطرح سے بھرپور تسلی کی ہے اور ان کی یہ رپورٹ اقوام متحدہ ،حکومتوں اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم گروپوں کے لیے دستیاب ہے۔
رپورٹ کے ایک مصنف پروفیسر سر جیفرے نائس نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اسد حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر ہلاکتوں میں ملوث ہونے کا یہ ٹھوس ثبوت فراہم ہوا ہے۔اس سے فوجداری مقدمہ چلانے میں مدد مل سکتی ہے''۔
-
شام میں جنگی جرائم کا نوٹس لیا جائے: سعودی قرارداد
مسودہ قرارداد پر اسی ہفتے کے دوران ووٹنگ کا امکان ہے
مشرق وسطی -
ایس این سی کا جنگی جرائم میں ملوث باغیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
شام میں تشدد کے واقعات میں 110 افراد ہلاک
مشرق وسطی -
شامی اپوزیشن سربراہ جربا کی بانکی مون سے پہلی ملاقات
جنگی جرائم میں ملوث افراد کے احتساب کو ممکن بنایا جائے گا، بانکی مون
مشرق وسطی -
اسد حکومت شامی شہر حمص میں نسلی تطہیر کر رہی ہے اپوزیشن
اپوزیشن کے فیصلے شامی عوام کرتے ہیں : جارج صبرا
مشرق وسطی -
شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، امریکا پالیسی پر نظرثانی کرے گا: اوباما
اسد حکومت کے خلاف فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشنز پرغور کیا جا رہا ہے
بين الاقوامى -
اسلحہ ملا تو 6 ماہ میں اسد حکومت گرا دیں گے: جنرل ادریس
'کاندھے سے فائر ہونے والے طیارہ شکن میزائل نہیں ملیں گے'
مشرق وسطی