.

کیمیائی ہتھیار تلفی، تیزی کیلیے روس شام پر دباو ڈالے: جان کیری

وزرائے خارجہ نے شام کیلیے امن مذاکرات کے اگلے راونڈ پر بھی بات کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف پر زور دیا ہے کہ وہ شامی رجیم پر کیمائی ہتھیاروں کی تلفی کا کام تیز کرنے کیلیے دباو ڈالیں۔ جان کیری نے ہتھیاروں کی تلفی کیلیے تعاون کی موجودہ رفتار کو تسلی بخش قرار نہیں دیا ہے۔

امریکا اور روس کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات میونخ میں ہونے والی سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر سائیڈ لائنز پر ہوئی ہے۔ ایک امریکی ذمہ دار کے مطابق جان کیری نے اس موقع پر کہا امریکا کیلیے شامی کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کی رفتار قابل قبول نہیں ہے ۔

امریکی ذمہ دار کا کہنا ہے کہ جان کیری نے سگئی لاروف پر زور دیا کہ وہ شام کی حکومت کو اس سلسلے میں زیادہ نتائج دینے کیلیے کہیں تاکہ شام میں موکود کیمیائی ہتھیار جلد بندرگاہ پر پہنچ سکیں۔ واضح رہے اس سے پہلے روس اس امر سے انکار کر چکا ہے کہ شام کیمائی ہتھیاروں کی تلفی کے حوالے سے تعاون کرنے سے پسپائی کی راہ پر ہے۔

میونخ سکیورٹی کانفرنس کی سائیڈ لائینز پر ہونے والی اس ملاقات میں امریکی اور روسی وزرائے خارجہ نے شام کے حوالے سے امن مذاکرات کے حالیہ انجام کے بعد اگلے مرحلے پر تبادلہ خیال کیا ۔

اس سے پہلے عالمی حمایت یافتہ شامی اپوزیشن اتحاد بشار رجیم کو جنیوا ٹو کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دے چکی ہے۔ البتہ احمد الجربا نے جنیوا ٹو کو اس حوالے سے ایک پیش رفت قرار دیا کہ اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ شام کے سیاہ وسفید کی بشار رجیم تنہا مالک نہیں ہے۔