اسرائیل بلیک میل پالیسی پر عمل پیرا ہے:فلسطینی اتھارٹی

امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی امن مذاکرات بحال رکھنے کے لیے مشرق وسطیٰ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی اتھارٹی نے امن مذاکرات کو بحال رکھنے کے لیے اسرائیل کی جانب سے پیش کردہ تجویز کو بلیک میل قراردیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اسرائیل بلیک میل پالیسی پر عمل پیرا ہے اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو مذاکرات کی ڈیڈلائن میں توسیع سے مشروط کررہا ہے''۔

وہ اسرائیل کی جانب سے باضابطہ طور پر پیش کی جانے والی تجویز پر تبصرہ کررہے تھے جس میں اس نے فلسطینیوں سے کہا ہے کہ اگر وہ مذاکرات کو 29 اپریل کی ڈیڈلائن کے بعد بھی جاری رکھتے ہیں تو پھر پہلے سے طے شدہ سمجھوتے کے مطابق چوتھے اور آخری مرحلے میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جاسکتا ہے۔

قبل ازیں امریکی وزیرخارجہ جان کیری اپنا معمول کا غیر ملکی سفر ادھورا چھوڑ کر مشرق وسطیٰ کے غیرعلانیہ دورے پر پہنچے ہیں اور وہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کی قیادت سے امن مذاکرات کو بحال رکھنے کے لیے بات چیت کرنے والے تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان جین سکئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''سیکریٹری جان کیری نے اپنی ٹیم سے مشاورت کے بعد خطے میں لوٹنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ یہ تعمیری ہوسکتا ہے''۔

گذشتہ ہفتے جان کیری اپنا روم کا دورہ ادھورا چھوڑ کر اردن کے دارالحکومت عمان پہنچے تھے اور انھوں نے وہاں فلسطینی صدر محمود عباس سے مذاکرات کو 29 اپریل کی ڈیڈلائن کے بعد بھی جاری رکھنے کے حوالے سے بات چیت کی تھی اور اسرائیل پر زوردیا تھا کہ وہ فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے تاکہ مذاکرات تعطل کا شکار نہ ہوں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جان کیری اسرائیل اور فلسطینی علاقوں دونوں کا سفر کریں گے اور وہ فریقین سے مذاکرات کو جاری رکھنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے گذشتہ روز کہا تھا کہ آیندہ چند روز میں امن مذاکرات کو جاری رکھنے کے بارے میں کوئی فیصلہ کر لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ''معاملے کو یا تو طے کر لیا جائے گا یا پھر ختم کردیا جائے گا لیکن کسی بھی صورت میں کوئی ایسی ڈیل نہیں کی جائے گی جس میں یہ واضح نہ ہو کہ اسرائیل کو بدلے میں کیا ملے گا اور اگر کوئی ڈیل ہوتی ہے تو اس کو منظوری کے لیے کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا''۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امریکی وزیرخارجہ کی ثالثی میں گذشتہ سال جولائی سے جاری امن مذاکرات کو مذکورہ ڈیڈ لائن کے بعد جاری رکھنے کے حوالے سے کوئی سمجھوتا طے نہیں پاسکا ہے اور اسرائیل نے امن مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے پہلے سے طے شدہ سمجھوتے کے تحت باقی چھبیس فلسطینی قیدیوں کو 29 مارچ کو رہا نہیں کیا تھا۔

اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے وقت طویل عرصے سے جیلوں میں بند ایک سو چار قیدیوں کی رہائی سے اتفاق کیا تھا لیکن اب تک ان میں سے اٹھہتر قیدیوں کو رہا کیا ہے۔رہائی پانے والے تمام قیدی بیس سال سے زیادہ عرصے سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں