مصر: مسلح افراد کا پولیس پر تباہ کن حملہ ،دو اہلکار ہلاک
معزول صدر مرسی کے حامی اخوان المسلمون کے 30 کارکنان کو 3،3 سال قید کا حکم
مصر کی سکیورٹی فورسز پر مسلح افراد کے حملے میں ایک پولیس افسر اور ایک ریکروٹ ہلاک ہوگیا ہے۔
مصری وزارت داخلہ نے اتوار ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلح افراد نے دارالحکومت قاہرہ اور سویز شہر کے درمیان واقع شاہرہ پر پولیس کی ایک گشتی پارٹی کی کار پر اندھا دھند فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں دو اہلکار موقع پر مارے گئے ہیں۔
دوروز پہلے دارالحکومت قاہرہ میں بم حملے میں ایک پولیس افسر ہلاک ہوگیا تھا۔واضح رہے کہ گذشتہ سال جولائی میں مصر کی مسلح افواج کے سربراہ (اب سابق) عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے جنگجوؤں نے سکیورٹی فورسز پر حملے تیز کررکھے ہیں۔
مصری حکام اخوان المسلمون پر ان حملوں کے الزامات عاید کرتے ہیں اور حکومت نے ملک کی اس سب سے منظم مذہبی سیاسی جماعت کو دہشت گرد قراردے رکھا ہے اور اس کے وابستگان رہ نماؤں اور کارکنوں کو عدالتوں کے ذریعے مختلف مقدمات میں ماخوذ کرکے سزائیں سنا جارہی ہیں۔
درایں اثناء مصر کی ایک عدالت نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے تیس حامیوں کو پرتشدد مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں تین ،تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔
عدالت نے ان مدعا علیہان کو فروری میں ڈاکٹر مرسی کے ٹرائل کے خلاف احتجاجی مظاہروں ،سڑکیں بند کرنے اور تشدد میں حصہ لینے کی پاداش میں قصور وار قراردیا ہے۔ ان پر ایک دہشت گرد گروپ سے تعلق کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا اور انھیں اخوان المسلمون کا ارکان ہونے پر بھی ماخوذ کیا گیا تھا۔
-
مصر: اخوان المسلمون کے دو ارکان ہلاک
واقعہ سکیورٹی فورسز کیساتھ تصادم میں پیش آیا
مشرق وسطی -
انصار بیت المقدس دہشت گرد تنظیم ہے: امریکا
تنظیم مصر میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے
مشرق وسطی -
بم دھماکے '' اجناد مصر '' نے ذمہ داری قبول کر لی
بدھ کے روز ہونیوالے دھماکوں میں بریگیڈئیر جنرل پولیس ہلاک ہوا
مشرق وسطی -
مصر: مزید 919 اخوانی کارکنوں کیخلاف مقدمے کا حکم
مقدمے کی سماعت المنیا میں ہوگی، جہاں 529 کو سزا سنائی گئی
مشرق وسطی -
مصر میں مساجد کی کڑی نگرانی شروع
اقدام کا مقصد منبر و محراب سے تشدد کا پرچار روکنا ہے
بين الاقوامى -
مصر دھماکہ، ہسپتال کی افتتاحی تقریب منعقد
واقعہ وادی نیل میں ہیش آیا، وزیر صحت محفوظ رہے
مشرق وسطی