.

شامی فوج نے باغیوں سے حلب جیل کا محاصرہ چھڑا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے حکومت نواز ٹی وی چینلز نے دعوی کیا ہے کہ سرکاری فوج نے باغیوں سے حلب کی مرکزی جیل کا محاصرہ ختم کرا لیا ہے۔ یہ جیل گذشتہ ایک برس سے باغیوں کے محاصرے میں تھی۔

لندن میں قائم انسانی حقوق کی شامی رصدگاہ کے مطابق سرکاری فوجی سنہ 2013 سے باغیوں کے زیر محاصرہ جیل میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

انسانی حقوق کی شامی رصدگاہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ النصرہ محاذ اور اسلام پسند باغیوں نے حلب کی مرکزی جیل کو تیرہ ماہ اپنے محاصرے میں رکھا، جس کے بعد شام کی سرکاری فوج اور بشار الاسد نواز جنگجووں کی مدد سے جیل کا محاصرہ ختم کرانے میں کامیاب ہو گئی۔

رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ جمعرات کی صبح متعدد بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک جیل کے احاطے میں داخل ہوئے۔

شام کے مختلف علاقوں میں اپنا نمائںدہ نیٹ ورک رکھنے والے لبنان کے شام نواز المنار اور المیادین ٹی وی چینلوں نے بتایا کہ سرکاری فوج جیل میں داخل ہو گئی ہے۔ وسیع رقبے پر پھیلی جیل میں 4000 قیدی رکھنے کی گنجائش ہے۔ گذشتہ ایک برس کے دوران اس جیل میں حکومت اور اپوزیشن کے جنگجووں کے درمیان خونریز تصادم ہو چکے ہیں۔

باغیوں نے جیل کا کنڑول حاصل کرنے کے لیے محاصرہ زدہ جیل کے صدر دروازے کو نشانہ بنانے کے لئے کئی کار بردار خودکش حملے کرائے۔ دسیوں مرتبہ ان کی جیل کے اندر چھپے ہوئے فوجیوں اور جیل محافظوں سے مدبھڑ ہوتی رہی تاہم اس کے باوجود وہ جیل کا کںڑول حاصل کرنے میں ناکام رہے۔