.

عراق: چار سینیر سکیورٹی کمانڈر برطرف

داعش کے جنگجوؤں کا میدانِ جنگ میں مقابلہ کرنے کے بجائے بھاگ گئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے سکیورٹی فورسز کے چار سینیر کمانڈروں کو پیشہ ورانہ عسکری فرائض سے غفلت برتنے پر برطرف کردیا ہے۔

ان اعلیٰ افسروں میں صوبہ نینویٰ میں عراقی فوج کے کمانڈر مہدی صباح غراوی بھی شامل ہیں۔عراقی حکومت نے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یہ چاروں کمانڈر اپنے پیشہ ورانہ اور عسکری فرائض انجام دینے میں ناکام رہے تھے''۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے ایک کمانڈر ہدایت عبدالرحیم میدان جنگ سے فرار ہوگئے تھے۔اب ان کے خلاف ایک فوجی عدالت میں ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

عراقی وزیراعظم نے ان چاروں اعلیٰ کمانڈروں کو شمال مغربی شہر موصل پر القاعدہ سے متاثر دولت اسلامی عراق وشام ( داعش) اور اس کے اتحادی دوسرے مسلح مزاحمت کار گروپوں کے قبضے کے ایک ہفتے کے بعد ان کے عہدوں سے ہٹایا ہے۔

داعش نے مقامی مسلح قبائل اور دوسرے گروپوں کی مدد سے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پورے صوبہ نینویٰ اور تین اورشمالی صوبوں کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔عراقی فوج کے مقابلے میں ان اسلامی جنگجوؤں کی ان فتوحات پر پورے خطے میں تشویش کی ایک لہر دوڑ گئی ہے اور اب ان کے خلاف کارروائی کےلیے نیا فوجی اتحاد تشکیل پارہا ہے جس میں ماضی کے دو روایتی حریف ممالک ایران اور امریکا بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

مقامی لوگوں اور میڈیا کے نمائندوں کی اطلاعات کے مطابق موصل اور دوسرے شمالی شہروں پر داعش کے حملے کے وقت عراقی فوجیوں نے بالکل بھی مزاحمت نہیں کی تھی اور وہ ان شہروں کا دفاع کرنے کے بجائے اپنی وردیاں ،گاڑیاں ،اسلحہ اور چوکیاں چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔

اب عراقی فوج کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ داعش اور دوسرے جنگجو گروپوں کے آناً فاناً حملے اور ان کی تیز رفتار کامیابیوں کے مقابلے میں بعد وہ کچھ سنبھل گئی ہے لیکن اس کے باوجود داعش اور اس کے اتحادیوں کی پیش قدمی جاری ہے اور وہ ہر نئے دن کے ساتھ مزید علاقے اپنے زیر نگیں لارہے ہیں اور وہاں سے عراقی فورسز کو مار بھگا رہے ہیں۔