.

ابوبکر البغدادی کی اتحادی حملے میں زخمی ہونے کی اطلاع؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے قبائلی عمائدین نے 'العربیہ' نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دولت اسلامی المعروف 'داعش' کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی القائم کے سرحدی علاقے میں اتحادی طیاروں کے ایک فضائی حملے میں شدید زخمی ہو گئے جبکہ اس کارروائی میں ان کے متعدد ساتھیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

الابنار صوبے سے تعلق رکھنے والے عراقی پارلیمنٹ کے رکن محمد الکربولی نے 'العربیہ' کو بتایا کہ اتحادی فوج کے لڑاکا طیاروں نے ہفتے کی شام صوبے کے مغرب میں القائم سرحدی جزیرہ میں داعش کے رہنماٶں کے ایک اجلاس پر بمباری کی جس کے نتیجے میں دسیوں افراد ہلاک ہو زخمی ہوئے۔ بمباری کے بعد داعش کی صفوں میں کھبلی مچ گئی۔ جنگجوٶں نے القائم کے تمام راستے بند کر دیئے ہیں تاکہ فضائی حملے میں زخمی قیادت اور ساتھیوں کو ہسپتال منتقل کر سکیں۔ اطلاعات کے مطابق القائم کا شفاخانہ لاشوں اور زخمیوں سے اٹا پڑا ہے۔

دوسری جانب الانبار ہی کے سیکیورٹی ذرائع نے اس بات کا غالب امکان ظاہر کیا ہے کہ ابوبکر البغدادی فضائی حملے کا نشانہ بننے والے داعش کے اجلاس میں موجود تھا لیکن ابھی تک اس کے بارے میں معمول نہیں ہو سکا کہ وہ کہاں اور کس حالت میں ہے۔

درایں اثنا باوثوق ذرائع نے 'العربیہ' کو بتایا کہ عراقی فوج نے تیل کی دولت سے مالا مال بیجی کے علاقے کے نواح پر حملہ کیا ہے۔ یہ کارروائی بیس دن سے جاری لڑائی کے بعد ممکن ہوئی ہے جس کے بعد عراقی فوج صلاح الدین اور نینوی کی انتظامی سرحد کے انتہائی قریب پہنچ گئے ہیں۔

الانبار کونسل نے ہفتے کے روز ھیت شہر کے 16 نواحی دیہات کو داعش کے کنڑول سے آزاد کرانے کا دعوی کیا ہے جس کے بعد داعش کے مسلح جنگجو ھیت کے مختلف علاقوں میں جائے پناہ تلاش کرتے دیکھے گئے۔

الابنار کونسل کے سربراہ صباح کرحوت نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے قبائلی سرداروں کی تعاون سے رمادی سے ستر کلومیٹر دور ھیت شہر کے 16 مشرقی دیہات داعش کے قبضے سے واگزار کرا لئے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز مختلف علاقوں میں اپنا کنڑول مضبوط کر لیا ہے۔

الانبار گورنری کے سربراہ نے ہفتے کے روز اس امر کی بھی تصدیق کی ہے کہ عراق کی مرکزی حکومت نے الانبار سے تعلق رکھنے والے قبائیلوں کے 3000 مسلح جنگجوٶں کو عوامی فوج میں شامل کرنے کی منظوری دی، ان جنگجوٶں کو باقاعدہ ماہانہ مشاہرے پر بھرتی کیا گیا ہے۔