10 لاکھ شامی زخمی،بیماریاں پھیل رہی ہیں:ڈبلیو ایچ او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے شام میں گذشتہ قریباً پونے چار سے جاری خانہ جنگی میں زخمی ہونے والے افراد کے نئے اعداد وشمار جاری کیے ہیں اور اس ادارے کی شام کے لیے خصوصی نمائندہ ایلزبتھ ہاف کا کہنا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں دس لاکھ افراد زخمی ہوئے ہیں اور ملک میں مریضوں تک ادویہ نہ پہنچنے کی وجہ سے مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی نمائندہ نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''شام کے سفر کے دوران ان لاکھوں زخمیوں کو ہر کہیں دیکھا جاسکتا ہے،لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہاتھوں اور پاؤں سے محروم ہوچکی ہے اور یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''شام میں صحت کا نظام تباہ ہوچکا ہے،نصف سے زیادہ سرکاری اسپتال ناکارہ ہوچکے ہیں اور اس کا یہ مطلب ہے کہ بیماروں اور زخمیوں کا باقاعدہ علاج نہیں ہو پا رہا ہے۔اس سال شام سے ٹائیفائیڈ کے ساڑھے چھے ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور خسرے کے چار ہزار دوسو کیسوں کا پتا چلا ہے۔البتہ پولیو کے صرف ایک کیس کا پتا چلا ہے''۔

انھوں نے بتایا ہے کہ صفائی ستھرائی کا نظام ناقص ہونے اور دمشق کے علاقے مشرقی الغوطہ میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے محاصرے کی وجہ سے جان لیوا مرض تپ دق (ٹی بی) بھی پھیل رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسد حکومت باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں سرجیکل آلات اور سامان کی سپلائی کو لے جانے سے روک رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان آلات سے باغیوں کو مدد مل سکتی ہے۔

مس ایلزبتھ کا کہنا تھا کہ خانہ جنگی کا شکار ملک میں پینے کے صاف پانی تک رسائی میں کمی اور بڑھتی ہوئی غربت کی وجہ سے صحت کا بحران شدید ہوا ہے۔اقوام متحدہ نے گذشتہ روز ہی شام میں جنگ سے متاثرہ قریباً ایک کروڑ اسی لاکھ افراد کی امداد کے لیے آٹھ ارب چالیس کروڑ ڈالرز سے زیادہ رقم کی مانگ کی ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین انتونیو گٹرس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ شام میں خانہ جنگی کے نتیجے میں اندرون ملک دربدر ہونے والے افراد اپنی تمام جمع پونجی اور وسائل خرچ کر چکے ہیں اور ان کے پاس کچھ نہیں بچا ہے جبکہ پڑوسی ممالک لاکھوں کی تعداد میں شامی مہاجرین کی میزبانی کررہے ہیں اور ان کے ہاں اب مزید گنجائش نہیں رہی ہے۔

واضح رہے کہ شام میں مارچ 2011ء سے جاری حکومت مخالف مسلح بغاوت اور خانہ جنگی کے دوران دو لاکھ سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ملک کی نصف سے زیادہ آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔ان میں سے لاکھوں پڑوسی ممالک ترکی،لبنان،اردن اور عراق میں مقیم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں