.

داعش کی قیدیوں کے تبادلے کے لیے نئی ڈیڈلائن

عراقی خاتون کی عدم رہائی پر یرغمال اردنی پائیلٹ کو قتل کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) نے اردن میں قید ایک عراقی خاتون کے بدلے میں جاپانی صحافی کی رہائی کے لیے جمعرات کی شام تک کی ڈیڈلائن مقرر کی ہے اور کہا ہے کہ دوسری صورت میں یرغمال اردنی پائیلٹ کو قتل کردیا جائے گا۔

داعش نے یرغمال جاپانی صحافی کینجی گوٹو کا ایک آڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ اگر آج شام تک عراقی خاتون کو رہا نہیں کیا گیا تو ان دونوں کو قتل کردیا جائے گا۔قبل ازیں منگل کو داعش نے قیدیوں کے تبادلے کے لیے چوبیس گھنٹے کی مہلت دی تھی لیکن اب اس میں مزید توسیع کی گئی ہے۔

داعش کی جانب سے جاری کردہ یہ آڈیو پیغام جمعرات کی صبح ویڈیو شئیرنگ کی ویب سائٹ یو ٹیوب پر پوسٹ کیا گیا تھا۔جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے کا کہنا ہے کہ ''ہم اس نئے پیغام سے آگاہ ہیں اور ٹوکیو اس ویڈیو کے مصدقہ ہونے کا جائزہ لے رہا ہے''۔

انھوں نے پارلیمان کے اجلاس میں کہا کہ ''ہم جاپانی شہری کی جلد سے جلد رہائی کے لیے ہر ممکن کوششیں کریں گے''۔جاپانی کابینہ کے چیف سیکریٹری یوشیدا سوگا نے ٹوکیو میں نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ریکارڈنگ میں گوٹو ہی کی آواز لگ رہی ہے۔

اس آڈیو پیغام میں کینجی گوٹو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے:''مجھے یہ پیغام آپ تک پہنچانے کے لیے کہا گیا ہے کہ اگر ساجدہ الریشاوی کو موصل کے معیاری وقت کے مطابق 29 جنوری کو غروب آفتاب تک ترکی کی سرحد پر نہ چھوڑا گیا تو پھر اردنی پائیلٹ معاذ الکساسبہ کو فوری طور پر قتل کردیا جائے گا''۔

اردن کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ''اس کو معاذالکساسبہ کے محفوظ ہونے سے متعلق کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے۔نیز قیدیوں کا تبادلہ پائیلٹ کی رہائی کی صورت ہی میں کیا جائے گا''۔

آڈیو پیغام میں ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا ہے کہ اردنی پائیلٹ بھی قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کا حصہ ہوگا بلکہ اس سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ گوٹو اور ساجدہ الریشاوی ہی کا ایک دوسرے سے تبادلہ کیا جائے گا اورآڈیو پیغام میں صرف معاذالکساسبہ کے قتل کی بات کی گئی ہے۔

تاہم اردنی حکام کا کہنا ہے کہ پائیلٹ کی رہائی ان کی ترجیح ہے اور وہ اس سے سلسلے میں جاپانی حکومت کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔اردنی حکومت کے ترجمان محمد المومنی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے بدھ کو نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ ''اگر پائِیلٹ لفٹیننٹ معاذ کی جان بخشی کر دی جاتی ہے اور اس کو رہا کردیا جاتا ہے تو ساجدہ الریشاوی کو بھی رہا کردیا جائے گا''۔

ترجمان نے داعش کے ہاتھوں یرغمال جاپانی صحافی کینجی گوٹو کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا حالانکہ منگل کو جاپانی حکومت کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ان دونوں یرغمالیوں کی بہ حفاظت بازیابی کے لیے جاپان اور اردن مل کر کام کررہے ہیں۔

داعش نے یرغمال جاپانی صحافی کو چھوڑنے کے بدلے میں اردن میں جیل میں قید عراقی خاتون ساجدہ الریشاوی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔داعش کے زیر قبضہ شام اور عراق کے علاقوں میں نشریات پیش کرنے والے البیان ریڈیو نے ایک نشریے میں ساجدہ الریشاوی کو ''ہماری بہن'' قرار دیا تھا۔

اس عراقی خاتون بمبار کو عمان کے ایک ہوٹل پر 9 نومبر 2005ء کو تہرے بم حملوں میں ملوّث ہونے کے الزام میں سنہ 2006ء میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔گرفتاری کے بعد اس خاتون کو اردن کے سرکاری ٹیلی ویژن پر دہشت گردی کے حملوں میں ملوّث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

دو صحافیوں کی گرفتاری

درایں اثناء اردن میں حکام نے ایک نیوز ویب سائٹ کے دو مینجروں کو یہ افواہ پھیلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے کہ ساجدہ الریشاوی کو جاپانی یرغمالی کے بدلے میں رہا کردیا گیا ہے۔

اردن کے ایک عدالتی ذریعے نے بتایا ہے کہ ثرّیا نیوز سائٹ کے مالک ہاشم الخالدی اور ایڈیٹر انچیف سیف عبیدات کو افواہ پھیلانے کا جُرم ثابت ہونے پر پندرہ ،پندرہ سال تک قید ہوسکتی ہے۔

ثرّیا نیوز نے بدھ کو یہ خبر دی تھی کہ الریشاوی کو رہا کردیا گیا ہے ۔وہ عراق پہنچ چکی ہے جہاں کینجی گوٹو کے بدلے میں اس کو داعش کے حوالے کردیا جائے گا لیکن اردنی حکام نے فوری طور پر اس خبر کی تردید کردی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمان کی اسٹیٹ سکیورٹی عدالت کے پراسیکیوٹر جنرل کے حکم پر ہاشم الخالدی اور سیف عبیدات کو ناکام خود کش بمبار عراقی خاتون کی رہائی سے متعلق افواہ شائع کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ان پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ انھوں نے ایک دہشت گرد تنظیم کے نظریات کے پروپیگنڈے کے لیے مواصلات کے ذرائع استعمال کیے تھے اور اس سے اردنی شہریوں کے خلاف تشدد کی بھی حوصلہ افزائی ہوسکتی تھی۔