مصر:سابق وزیرداخلہ برّیت کے بعد جیل سے رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر کے سابق وزیرداخلہ حبیب العادلی کو بدعنوانی کے مقدمے میں برّیت کے بعد بدھ کے روز جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

مصر کی ایک عدالت نے گذشتہ ہفتے برطرف صدر حسنی مبارک کے دور کے وزیر داخلہ حبیب العادلی کو غیر قانونی منافع کمانے اور قومی خزانے سے اٹھارہ کروڑ دس لاکھ مصری پاؤنڈز (دو کروڑ سینتیس لاکھ ڈالرز) کی رقم خرد برد کرنے کے الزام میں قائم مقدمے میں برّی کردیا تھا۔

گذشتہ ماہ ایک اور عدالت نے ستتر سالہ حبیب العادلی اور سابق وزیراعظم احمد نضیف کے خلاف بدعنوانیوں کے الزام میں قائم ایک اور مقدمے کی دوبارہ سماعت کے بعد انھیں برّی کرنے کا حکم دیا تھا۔ان پر الزام تھا کہ انھوں نے حسنی مبارک کے دور حکومت میں ناجائز منافع کمایا تھا اور قومی خزانے کو نقصان پہنچایا تھا۔

قاہرہ کی ایک ماتحت عدالت نے احمد نضیف کو سنہ 2011ء میں ایک سال معطل قید اور سابق وزیرداخلہ کو پانچ سال جیل کی سزا سنائی تھی۔ان دونوں نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور اس نے ان کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ مصری عدالتیں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے دور کی سرکردہ شخصیات اور اعلیٰ عہدے داروں کو تو مقدمات کی دوبارہ سماعت کے بعد بری کررہی ہیں جبکہ اسلام پسندوں یا انسانی حقوق اور جمہوریت کے علمبردار کارکنان کو حکومت مخالف مظاہروں اور تشدد کے واقعات میں ملوّث ہونے کے الزامات میں لمبی قید کی سزائیں سنائی رہی ہیں۔خاص طور پر سابق حکمراں جماعت اخوان المسلمون کے قائدین اور کارکنان کو تھوک کے حساب سے موت اور لمبی قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں