.

یمن آپریشن کی حمایت، حزب اللہ کی لبنانی حکومت مفلوج کرنے کی دھکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز حوثی شدت پسندوں اور سابق صدرعلی عبداللہ صالح کے حامیوں کے خلاف سعودی عرب کے ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ آپریشن پر لبنانی حکومت کی جانب سے کھل کر حمایت کو حزب اللہ نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ساتھ ہی دھمکی دی ہے کہ وہ یمن میں فوجی آپریشن کی حمایت پر بیروت حکومت کو مفلوج کرسکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لبنانی وزیراعظم تمام سلام کی 28 مارچ کو مصرمیں منعقدہ عرب سربراہ کانفرنس میں شرکت بھی حزب اللہ سخت ناگواری گذری ہے۔ سربراہ کانفرنس میں وزیر اعظم سلام کی جانب سے یمن میں جاری فوجی آپریشن کی حمایت پر حزب اللہ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت بیروت حکومت کو مفلوج کرسکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اوروزیراعظم تمام سلام کے درمیان اس وقت اختلافات زیادہ شدت اختیار کرگئے ہیں۔ وزیراعظم نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصرا للہ کی جانب سے آج[ بدھ ] کے روز ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں رخنہ ڈالنے سے متعلق بیان پر کڑی تنقید کی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حزب اللہ یمنی بحران کو دانستہ طورپر لبنان میں منتقل کرنے کی سازش کررہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حزب اللہ اور لبنانی حکومت کےدرمیان تنائو اس وقت پیدا ہوا جب شرم الشیخ میں منعقدہ عرب سربراہ کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم تمام سلام نے یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے فوجی آپریشن کی کھل کر حمایت کی۔ شرم الشیخ میں یمن میں فوجی آپریشن کی حمایت کے ساتھ ہی حزب اللہ کی قیادت اور جماعت کے حامیوں کی طرف سے ایک طوفان کھڑا کردیا گیا۔ ہرطرف سے وزیراعظم تمام سلام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ حزب اللہ کی جانب سے متعدد مرتبہ دھمکی آمیز بیان میں کہا گیا کہ اگر بیروت نے یمن میں فوجی کارروائی کی حمایت واپس نہ لی تو حکومت کو مفلوج کرکے رکھ دیا جائے گا۔

حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ اور حکومت میں شامل وزیر حسین الحاج حسن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ عرب سربراہ کانفرنس سے وزیراعظم تمام سلام کا خطاب پوری لبنانی قوم کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ہم نے یمن میں ان کی جانب سے فوجی کارروائی کی حمایت کو مسترد کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرم الشیخ میں منعقدہ عرب سربراہ کانفرنس میں وزیراعظم تمام سلام کو وہی کچھ کہتے سنا گیا جو وہاں پر بیشتر عرب ممالک کے قائدین کہہ رہے تھے۔ وزیراعظم کی جانب سے یمن میں سعودی عرب کی فوج کشی کی حمایت کرنا لبنان کے قومی موقف سے انحراف ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم تمام سلام نے بھی حزب اللہ رہ نمائوں کی تنقید کا بھرپور جواب دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے شرم الشیخ میں عرب سربراہ کانفرنس کے دوران جو کچھ بھی کہا وہ قومی مفاد میں کہا ہے۔ یمن میں جاری سعودی عرب کے فوجی آپریشن کی حمایت کرنا لبنان کے قومی مفاد میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پوری عرب دنیا کے اجتماعی فیصلے کا ساتھ دینا چاہیے۔ لبنان بھی عرب دنیا کا حصہ ہے۔ اس لیے ہم کوئی الگ سےموقف اختیار نہیں کرسکتے۔ عرب ممالک کی اجتماعی سوچ سے ہٹ کر فیصلے کرنا قومی مفاد کے خلاف ہوگا۔