شامی اپوزیشن کا بحران کے حل کے لیے''نقشہ راہ'' پر اتفاق
شامی حزب اختلاف کے دو بڑے گروپوں نے ملک میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ایک متفقہ نقشہ راہ (روڈ میپ) پر اتفاق کیا ہے۔
شامی حزب اختلاف کے گروپوں کا بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں اجلاس ہوا ہے۔اس میں شامی قومی اتحاد (ایس این سی) اور قومی رابطہ کار باڈی برائے جمہوری تبدیلی (این سی بی) کے نمائندوں نے شرکت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک نیوز کانفرنس میں اس سمجھوتے کا اعلان کریں گے۔
یہ دونوں گروپ ایک عرصے سے شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے مشترکہ افہام وتفہیم اور موقف اپنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ان کے درمیان اتفاق رائے کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا دمشق کے دورے پر ہیں اور وہ بحران کے سیاسی حل کے سلسلے میں شامی حکومت کے نمائندوں سے بات چیت کررہے ہیں۔
این سی بی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ایک رکن خلاف داؤد نے برسلز میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ''آج ہم نے حزب اختلاف میں عدم اتحاد کی کہانی کو ختم کردیا ہے''۔ایس این سی کے سینیر رکن ہادی بحرہ کا کہنا ہے کہ دونوں گروپوں کے درمیان سمجھوتے سے حزبِ اختلاف کے درمیان اتحاد کو تقویت ملے گی۔
انھوں نے کہا کہ ''یہ عالمی برادری کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ شامی حکومت کو سیاسی انتقالِ اقتدار کے لیے مذاکرات کی میز پر لانے کی غرض سے دباؤ ڈالے''۔
ان دونوں گروپوں پر یہ الزام عاید کیا جاتا رہا ہے کہ ان کا شام مِیں برسرزمین حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف نبرد آزما باغی گروپوں سے بھی ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے مگر اب ایک متحدہ سیاسی محاذ سے مستقبل میں اسد حکومت سے مذاکرات کے لیے ان کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔
اسٹافن ڈی مستورا جمعرات کو دمشق پہنچے تھے۔وہ شامی حزب اختلاف اور علاقائی فریقوں سے مذاکرات کررہے ہیں تاکہ بحران کا کوئی حل تلاش کیا جاسکے۔ان کے دفتر کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کو پیش کرنے کے لیے اپنی تجاویز کو حتمی شکل دے رہے ہیں تاکہ ان کی روشنی میں شام میں جاری بحران کا سیاسی حل تلاش کیا جاسکے۔
عالمی ایلچی نے اپنی آمد کے بعد شامی وزیرخارجہ ولید المعلم سے ملاقات کی ہے۔ولید المعلم کا کہنا ہے کہ ''ان کا ملک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے علاقائی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اوروہ دہشت گردی کی بیخ کنی کو بنیادی ترجیح قرار دیتا ہے''۔واضح رہے کہ شامی حکومت صدر بشارالاسد کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے فوج سے لڑنے والے تمام گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔
درایں اثناء شام میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں نے سرحدی علاقے میں ترکی کی ایک فوجی چوکی پر فائرنگ کی ہے جس سے ایک ترک فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔ترک فوجیوں کی جوابی فائرنگ سے داعش کا ایک جنگجو ہلاک ہوگیا ہے۔یادرہے کہ شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں دو لاکھ تیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔