شامی ایلچی کی سعودی حکام سے ملاقات میں کیا طے پایا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شام کے قومی سلامتی بیورو کے سربراہ میجر جنرل علی مملوک چند روز قبل ایک شامی طیارے پر ساحلی شہر جدہ پہنچے تھے اور انھوں نے ایک روسی وفد کی موجودگی میں سعودی عہدے داروں سے ملاقات کی تھی۔

لبنانی اخبار اللوا میں شائع شدہ ایک مضمون کے مطابق شامی صدر بشارالاسد نے میجر جنرل علی مملوک کو روسی عہدے داروں کی موجودگی میں سعودی حکام سے ملاقات کے لیے بھیجا تھا۔اس کے بعد شامی حکومت نے شام نواز لبنانی روزنامے الاخبار کو اس دورے کی کچھ تفصیل سے مطلع کیا تھا۔البتہ للوا میں شائع ہونے والے مضمون میں اس ملاقات کی تفصیل بیان نہیں کی گئی ہے۔

سعودی حکام کی شامی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں مبینہ طور پر دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب ،ترکی ،اردن اور شام پر مشتمل نئے اتحاد کے قیام کی تجویز پر غور کیا گیا تھا لیکن سعودی ذریعے نے ان دعووں سے انکار کیا ہے اور وضاحت کی ہے کہ اس ملاقات کا اہتمام الریاض حکومت نے کیا تھا کیونکہ ایک اور سعودی ،روس ملاقات میں ماسکو نے الریاض میں شام میں جاری تنازعے کے سیاسی حل کی راہ میں روڑے اٹکانے اور حزب اختلاف کی حمایت کے ذریعے دہشت گردی کو ہوا دینے کا الزام عاید کیا تھا۔

تاہم سعودی عہدے داروں نے تب روس کے ان الزامات کی سختی سے تردید کی تھی اور روسی عہدے داروں کو شامی بحران کے ایک نئے حل کی تلاش کے لیے دورے کی دعوت دی تھی۔سعودی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الریاض نے ماسکو کو شام میں قیام امن کے لیے نئے اقدام اور بشارالاسد کے اتحادی روسیوں کو ان کا حقیقی چہرہ دکھایا تھا۔

مذکورہ سہ فریقی ملاقات جدہ میں ہوئی تھی۔اس میں شرکت کے لیے روس اور شام کے وفود الگ الگ طیاروں کے ذریعے آئے تھے اور وہ صرف روسی طیارے سے نہیں آئے تھے جیسا کہ الاخبار نے رپورٹَ کیا ہے۔سعودی ذریعے نے یہ بھی کہا ہے کہ روسی وفد نے اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ شامی وفد ان کے ساتھ طیارے پر نہ آئے تاکہ یہ تاثر نہ اُبھرے کہ روسی وفد بشارالاسد کے ضامن کے طور پر آرہا ہے بلکہ وہ صرف ایک گواہ کے طور پر آیا تھا۔

اس ذریعے کا کہنا تھا کہ بشارالاسد نے ایک خلیجی ریاست کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ سعودی عرب اپنے اتحادیوں کے علم میں لائے بغیر اس ملاقات کا اہتمام کررہا ہے مگر سعودی عرب نے تو اس ملاقات سے قبل ہی اپنے اتحادیوں کو پیشگی مطلع کردیا تھا۔

سعودی ذرائع نے اس امن اقدام کے مندرجات کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ ''سعودی عرب اور اس کے اتحادی شامی حزب اختلاف کی حمایت بند کردیں گے لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ ایران ،حزب اللہ اور شیعہ ملیشیائیں شام سے نکل جائیں۔اس تجویز پر عمل درآمد کی صورت میں تنازعہ اور اس کا حل خالصتاً شامی ہو کر رہ جائے گا۔اس کے جواب میں میجر جنرل علی مملوک نے جواب دیا:''حزب اللہ کے معاملے میں ہم کیا کرسکتے ہیں،اس پر غور کے لیے ہمیں وقت درکار ہے''۔

شامی حکومت کی الاخبار کو افشاء کردہ معلومات کے مطابق سعودی عرب نے بشارالاسد سے مبینہ طور پر کہا ہے کہ وہ سیاسی مفاہمت کی قیمت کے طور پر ایران سے دور رہیں جبکہ سعودی ذریعے نے اس کی صحت سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ سعودی حکام نے اسد رجیم کے وفد سے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی۔

سعودی ذریعے نے مزید انکشاف کیا ہے کہ بشارالاسد نے اپنے ایلچی کو اپنے اتحادیوں روس اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے بعد جدہ بھیجا تھا کیونکہ شامی رجیم تو اس پر بھی متفکر تھا کہ بشارالاسد کے وفد کو میزبان کے طور پر قبول کرے گا۔

اس ذریعے کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے شامی رجیم کے وفد سے روسی وفد کی موجودگی میں ملاقات سے مطلوبہ مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔اس سے بشارالاسد رجیم کا حقیقی چہرہ روس پر ظاہر کردیا گیا ہے اور یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ اس حکومت کی کوئی ساکھ نہیں رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں