شام : داعش سے لڑائی میں ایرانی جنرل ہلاک
شام کے شمالی شہر حلب کے نزدیک سپاہ پاسداران انقلاب ایران کا ایک جنرل داعش کے خلاف لڑائی میں ہلاک ہوگیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ جنرل حسین ہمدانی صوبہ حلب میں داعش کے خلاف جنگ میں شامی فوج کی رہ نمائی کررہے تھے۔وہ جمعرات کی شب مارے گئے تھے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے دہشت گردوں کے خلاف مزاحمت کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
جنرل ہمدانی کی موت کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب داعش کے جنگجوؤں نے حلب کے نواح میں متحارب مزاحمت کاروں کو شکست دینے کے بعد متعدد دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔داعش نے میدان جنگ میں یہ کامیابیاں روس کے لڑاکا طیاروں کی حالیہ بمباری کے باوجود حاصل کی ہیں۔
ایران کے رکن پارلیمان اسماعیل کوثری نے کہا ہے کہ جنرل ہمدانی نے شام کی مسلح افواج اور رضاکار جنگجوؤں کو دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف منظم کرنے میں مدد دی تھی۔
انھوں نے ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم کو بتایا ہے کہ ''حسین ہمدانی نے شام میں گذشتہ برسوں کے دوران فوجی مشیر کے طور پر کام کیا تھا اور انھوں نے دمشق حکومت کو سقوط سے بچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔پھر وہ اپنے مفوضہ کام کی تکمیل کے بعد ایران لوٹ آئے تھے اور چند روز قبل ہی دوبارہ شام گئے تھے کیونکہ وہ علاقے کا وسیع علم رکھتے تھے اور وہیں شہید ہوگئے ہیں''۔
حسین ہمدانی نے 1980ء سے 1988ء تک عراق کے ساتھ لڑی گئی جنگ میں بھی حصہ لیا تھا اور انھیں سنہ 2005ء میں ایلیٹ فورسز کا ڈپٹی چیف کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔وہ شام میں مارے جانے والے سپاہ پاسداران کے سینیر ترین کمانڈر ہیں۔اس سے قبل جنوری میں ایران کے بریگیڈئیر جنرل محمد علی اللہ دادی حزب اللہ کے چھے جنگجوؤں سمیت اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے چند روز قبل یہ اطلاع دی تھی کہ ایران کے سیکڑوں فوجی اسلحے سمیت شام پہنچے تھے۔اب وہ جنگ زدہ ملک کے شمال میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں اسدی فوج کے ساتھ مل کر زمینی کارروائیوں میں شریک ہیں۔لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ بھی ان کارروائیوں میں حصہ لےرہی ہے۔
شام اور اس کے اتحادیوں روس اور ایران کے اس آپریشن کا مقصد صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ہاتھوں کھوجانے والے ملک کے شمال مغربی علاقوں کو واپس لینا اور وہاں سے باغیوں کو نکال باہر کرنا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے ایران کی جانب سے بشارالاسد کی امداد صرف فوجی مشیروں کی صورت ہی میں رہی ہے۔البتہ اس نے عراقیوں اور بعض افغان جنگجوؤں پر مشتمل ملیشیاؤں کو شامی حکومت کے ساتھ مل کر باغیوں سے لڑنے کے لیے تربیت دے کر بھیجا تھا۔پاسداران انقلاب بھی شام میں جنگی محاذوں پر اپنے کمانڈروں کی موجودگی کی تردید کرتے رہے ہیں۔
ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ بھی شامی فوج کے شانہ بشانہ گذشتہ ساڑھے چار سال سے باغیوں کے خلاف لڑرہی ہے۔شامی جنگ میں حالیہ ہفتوں کے دوران نیا اضافہ روس کے فوجیوں اور جنگی سازوسامان کی آمد ہے اور روس کے لڑاکا طیارے 30 ستمبر سے شام کے وسطی ،شمالی اور شمال مغربی علاقوں میں داعش اور دوسرے اسد مخالف باغی جنگجو گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔