عراق کا ترکی کو 48 گھنٹوں میں فوج نکالنے کا الٹی میٹم
عراقی حکومت نے ترکی کو متنبہ کیا ہے کہ وہ عراق میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والی فوج کو 48 گھنٹوں میں نکال لے ورنہ اسے تمام ممکنہ آپشنز کا سامنا کرنا ہوگا جن میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے رابطہ شامل ہے۔
بغداد کا کہنا ہے کہ ترکی کی افواج ٹینکوں اور توپوں سے لیس ہو کر غیر قانونی طور پر عراقی حدود میں گھس آئی ہے۔ اس سے پہلے ترک وزیراعظم احمد دائود اوغلو نے عراقی ہم منصب کو بھیجے جانے والے ایک خط میں کہا تھا کہ بغداد کے خدشات دور ہونے تک ترکی فوج کو تعینات نہیں کرے گا۔
حیدر العبادی کی دفتر کے جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "ترکی کی افواج کی 48 گھنٹوں میں واپسی نہ ہونے کی صورت میں عراق کو تمام موجودہ آپشنز کے استعمال کا حق حاصل ہے، جس میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے رابطہ کرنا بھی شامل ہے۔"
بیان میں بتایا گیا کہ ترکی کی فوج عراقی حکومت کی اجازت کے بغیر اور اسے بتائے بغیر عراق میں داخل ہوگئی ہے۔"
عراق کے صوبے نینوی کے علاقے بعشیقہ کے ایک فوجی اڈے پر ترکی کے فوجی موجود ہیں جو کہ دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' کے خلاف لڑنے والے سنی رضاکاروں کو ٹریننگ دینے میں مصروف ہیں۔
ترک وزیر اعظم احمد دائود اوغلو نے عبادی کو اتوار کے روز ایک خط بھیجا تھا جس میں انہیں بعشیقہ میں جاری ٹریننگ کے منصوبے اور ترک افواج کی عراق سے ملحقہ علاقوں میں کارروائی سے آگاہ کیا گیا تھا۔
اوغلو کے دفتر کے ایک ذرائع کے مطابق خط میں لکھا گیا تھا کہ بعشیقہ میں اس وقت تک فوج تعینات نہیں کی جائیگی جب تک عراقی حکومت کے تمام خدشات دور نہیں کئے جاسکتے ہیں۔
عراق کے ترکی کے ساتھ موجود تعلقات میں حالیہ دنوں کے دوران کچھ بہتری آئی تھی مگر اس سے پہلے انقرہ کی عراق کے خودمختار علاقے کردستان کے ساتھ تعلقات اور شام میں جاری خانہ جنگی میں اسد مخالف موقف پر تعلقات میں دراڑیں موجود رہی ہیں۔
-
روس سے کشیدگی ختم ہونے پر ترکی، داعش پر حملے تیز کرے گا
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ روس اور ترکی کے درمیان حالیہ تنازعے کے باعث ...
بين الاقوامى -
ترکی اور روس میں مصالحت کرانا ہمارا فرض ہے: ایران
ایران نے اپنے اتحادی روس اور ترکی کے درمیان مصالحت کے لیے ازخود ہی کردار ادا کرنا ...
بين الاقوامى -
داعش سے مبینہ تیل خریداری پر ایران بھی ترکی سے ناراض
ہفتہ قبل #روس کا جنگی طیارے مار گرائے جانے کے بعد #انقرہ اور #ماسکو کے درمیان پائی ...
بين الاقوامى