دمشق کے علاقے مضایا میں قحط اور بھوک کے ڈیرے

غذائی قلت سے بے حال شامی نونہال کی دل دہلا دینے والی ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

انسانی حقوق کے رضاکاروں نےشامی دارالحکومت دمشق کے مضافاتی علاقے مضایا کے محصور اور بھوک سے متاثرہ شہریوں کو فوری امداد کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

الحدث ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دمشق کے نواحی علاقے مضایا میں بڑی تعداد میں مقامی آبادی اور آس پاس کے مہاجرین بدترین غربت اور بھوک کا شکار ہیں۔ مقامی شہری گھاس پھوس ، پتے سمیت کتوں اور بلیوں کا گوشت کھانے پر مجبور ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے ایک یاداشت پر دستخطی مہم شروع کی ہے جس میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مضایا کے متاثرین کی فوری امداد کو یقینی بنائے اور بھوک کےشکار شہریوں کی زندگیاں بچانے میں ان کی مدد کرے۔ سماجی کارکنوں نے متاثرین تک فوری امدادی سامان اور ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ مضایا میں موجود جنگجو گروپوں کو وہاں سے باہر نکالنے پر زور دیا ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ چند دنوں کے دوران میں مضایا میں غذائی قلت اور قحط جیسی صورتحال کے نتیجے میں 20 شامی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

درایں اثنا سماجی کارکنوں نے بھوک سے نڈھال ایک روتے بلکتے اور زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا کم سن بچے کی ویڈیو فوٹیج پوسٹ کی ہے جس میں معصوم نونہال کی دل دہلا دینے والی کیفیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ گوکہ یہ ایک بچے کی ویڈیو ہے مگرشام میں ایسے لاکھوں افراد موجود ہیں جو ہولناک جنگ کے ساتھ ساتھ بھوک و افلاس اور بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

دمشق کے مضافات میں مشرقی الغوطہ ایک ایسا مقام ہے جہاں گذشتہ تین برسوں سے محصور شہریوں کی بڑی تعداد بیرل بموں کے ساتھ ساتھ اسد نوا ز ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کے حملوں اور بھوک کی وجہ سے بھی جانیں دے رہے ہیں۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مشرقی الغوطہ اور الزبدانی پر حزب اللہ کے اجرتی قاتلوں اور اسد نواز فورسزنے کچھ عرصہ قبل حملہ کرکے یہاں کے شہریوں کو وہاں سے نکال دیا تھا۔ ان لوگوں پر عرصہ حیات اس لیے تنگ کردیا گیا کیونکہ ان پر الزام تھا کہ وہ شامی باغیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں اور ان میں باغیوں کے اہل خانہ اور عزیز واقارب بھی موجود ہیں۔ اس لیے انہیں وہاں سے نکال باہر کیا جائے۔

شامی فوج اور حزب اللہ کے حملوں کے باعث مقامی آبادی نقل مکانی کرتےہوئے قریب علاقے مضایا میں پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہوئے۔مضایا کے مقامی باشندے پہلے سے محاصرے کا شکار تھے۔ آس پاس کے علاقوں کی آبادی کی وہاں نقل مکانی کے بعد ان پرعرصہ حیات مزید تنگ کر دیا گیا۔

حزب اللہ اور شامی فوج کی جانب سے مقامی آبادی کو جھکانے کے لیے ان پر سخت قسم کی شرائط عاید کی گئی جن کے بعد میں امدادی کارروائیوں کی یقین دہانی کرائی گئی تھی مگریہ وعدہ ابھی تک ایفا نہیں کیا جا سکا ہے۔ مضایا میں رہنے والے ہر کنبے اور گھر میں موت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ اب تک درجنوں افراد بھوک کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ اشیائے خور ونوش کی شدید قلت ہے اور بچوں کے لیے دودھ 100 ڈالر فی لٹر سے کم میں دستیاب نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں