شام میں حزب اللہ کی ہلاکتوں کی اصل تعداد؟
امریکی ادارے "دی واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ" کی جانب سے جاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں شام میں لبنانی تنظیم حزب اللہ کی ملیشیاؤں کے مقتول ارکان کی اصل تعداد بیان کی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2012 کے اواخر سے 16 فروری 2016 تک حزب اللہ کی ملیشیاؤں کے 865 ارکان مارے گئے۔
بتائی گئی تعداد میں حزب اللہ کی جانب سے جاری سرکاری بیانات کے بجائے ایرانی ویب سائٹوں اور لبنانی اخبارات کا سہارا لیا گیا ہے۔ تعداد میں بڑی حد تک اضافے کے امکانات موجود ہیں۔
امریکی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق مذکورہ عرصے میں ٹریفک حادثات اور اچانک حرکت قلب بند ہوجانے کے واقعات میں متعدد لبنانی نوجوانوں کی موت سے متعلق خبریں بھی پھیلی تھیں.. انسٹی ٹیوٹ نے اس بات کو خارج از امکان نہیں قرار دیا کہ یہ حزب اللہ کے اصل جانی نقصان کی تعداد چھپانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بعض علاقے جہاں سے حزب اللہ کے ارکان کا تعلق ہے وہاں ہلاکتوں کی تعداد نسبتا زیادہ ظاہر ہوئی ہے۔
البقاع میں بعلبک کا علاقہ 158 ہلاکتوں کے ساتھ سرفہرست ہے جس کے بعد الہرمل کا علاقہ ہے جہاں 43 ہلاکتیں ہوئیں۔
جنوب میں صور شہر اول نمبر پر رہا جہاں 137 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ اس کے بعد النبطیہ صوبے میں 122، بنت جبیل میں 79، مرجعیون میں 52 اور صیدا میں 37 ہلاکتیں ہوئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیروت صوبے میں حزب اللہ کی صرف 10 ہلاکتوں کا اندراج ہوا۔