نیوکلیئر دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کا 1 کروڑ ڈالر کا عطیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب نے ویانا میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے صدر دفتر میں نیوکلیئر دہشت گردی کے انسداد کے خصوصی مرکز کی تعمیر کے لیے 1 کروڑ ڈالر عطیہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی سرکاری نیوز ایجنسی "ایس پی اے" یہ اعلان واشنگٹن میں نیوکلیئر سیکورٹی سے متعلق سربراہ اجلاس میں مملکت کے وفد کے سربراہ اور کنگ عبداللہ سٹی فار اٹامک انرجی کے صدر ڈاکٹر ہاشم بن عبداللہ یمانی کے خطاب کے دوران سامنے آیا۔

اس موقع پر یمانی کا کہنا تھا کہ "سعودی عرب ان اولین ممالک میں سے تھا جنہوں نے نیوکلیئر سیکورٹی سے متعلق بین الاقوامی فیصلوں اور معاہدوں کی حمایت اور توثیق کی"۔

سعودی وفد کے سربراہ نے مزید کہا کہ مملکت نیوکلیئر سیکورٹی کے میدان میں بین الاقوامی سرگرمیوں کی مکمل سپورٹ جاری رکھے گا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے 2014 میں اقوام متحدہ کے زیرانتظام انسداد دہشت گردی کے مرکز کے قیام کے لیے 10 کروڑ ڈالر عطیہ دینے کا اعلان کیا تھا۔

ڈاکٹر یمانی نے "عالمی برادری پر زور دیا کہ نیوکلیئر دہشت گردی کے انسداد کے لیے خصوصی مرکز کے قیام کے ذریعے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے واسطے فنی اور افرادی قوت کے سلسلے میں بھرپور سپورٹ فراہم کی جائے"۔

کنگ عبداللہ سٹی کے سربراہ نے واضح کیا کہ مملکت اس عزم کا برملا اظہار کرچکی ہے کہ وہ مستقل ترقیاتی اہداف کو یقینی بنانے کے لیے پرامن مقاصد کے حوالے سے نیوکلیئر توانائی سے مستفید ہونے کے پروگرام ترتیب دینا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ مملکت ایک ایسے نظام کی تاسیس کی بھی پابند ہے جس کے تحت نیوکلیئر اور یڈیوایکٹو لوازمات کی نگرانی اور کنٹرول کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس کے لیے کسٹم کے اداروں، سرحدی نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے تمام تر اداروں کو جدید ترین خطور پر استوار کیا جائے گا تاکہ خطرناک نوعیت کے لوازمات کی غیر قانونی تجارت کے انکشاف کے ساتھ ساتھ اس کو روکا بھی جاسکے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں