ایران : "گرین موومنٹ" کے رہ نما کے بھائی پر قاتلانہ حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں سابق سفارت کار اور اپوزیشن کی گرین موومنٹ کے نظربند رہ نما میر حسین موسوی کے بھائی میر محمود موسوی قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوگئے۔ گرین موومنٹ کے زیرانتظام ویب سائٹ کے مطابق ہفتے کی شام تین نامعلوم افراد نے موسوی پر حملہ کیا۔ ان افراد نے پہلے تو موسوی کو گالیاں دیں اور اس کے بعد ان کی گردن پر چاقوؤں کے وار کرکے شدید زخمی کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق ہاتھا پائی کی وجہ سے حملہ آور موسوی کی گردن کی رگیں کاٹنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تاہم ان کے سر اور گردن میں شدید زخم آئے ہیں۔ بعد ازاں موسوی زمین پر گر کر بے ہوش ہوگئے جب کہ لوگوں کے جمع ہوجانے پر حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ حالیہ دس روز کے اندر موسوی پر یہ تیسرا قاتلانہ حملہ ہے۔ یاد رہے کہ میر محمود موسوی ایک سابق سفارت کار ہیں جو ایرانی وزارت خارجہ میں ایشیا بیورو کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ وہ شام میں ایرانی فوجی مداخلت کے مخالف موقف کے سبب جانے جاتے ہیں اور وہ بشار الاسد کی حکومت ختم کیے جانے کے حق میں ہیں۔

میر محمود موسوی کا شمار "گرین موومنٹ" کی اہم شخصیات میں ہوتا ہے۔ 2011 سے اپنے بھائی اور سابق وزیراعظم مير حسين موسوي (1980-1988) اور مہدی کروبی کی نظربندی کے بعد سے میر محمود موسوی نے تحریک میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دونوں رہ نماؤں کو 2009 میں صدارتی انتخابات میں مبینہ جعل سازی اور دھاندلی کے خلاف احتجاجی گرین موومنٹ شروع کرنے پر نظربند کر دیا گیا۔ یہ وہ ہی انتخابات ہیں جن کے ذریعے محمود احمدی نژاد دوسری مرتبہ منصب صدارت پر پہنچے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں