شام میں مداخلت کے بعد سے حزب اللہ کے 50 کمانڈر ہلاک
لبنانی تنظیم حزب اللہ کی جانب سے جاری اعداد وشمار اور سرکاری بیانات کے مطابق 2012 سے اب تک شام میں حزب اللہ کی ملیشیاؤں کے تقریبا ایک ہزار لیڈر اور ارکان مارے جاچکے ہیں۔ تاہم حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیوں کہ تنظیم عام طور پر اپنے جانی نقصان کو چھپانے اور کم کرکے ظاہر کرنے کی روش پر عمل پیرا ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے جنجگوؤں اور قائدین کی ہلاکتوں کے اعلانات کی پالیسی میں واضح فرق ہوتا ہے۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران حزب اللہ نے تقریبا 50 ایسے بیانات جاری کیے جن میں اس نے مرنے والوں کو میدان جنگ کا کمانڈر یا سینئر افسر قرار دیا۔ مارے جانے والوں میں اکثریت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران حلب کے معرکوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھوئے۔ ان میں حسن نصر اللہ کا ایک اہم معاون اور حلب کے نواحی علاقوں میں کارروائیوں کا سینئر ذمہ دار حسن حسين الحاج عرب ابو محمد اور حزب اللہ کا ایک سینئر لیڈر مہدی حسن عبيد شامل ہیں۔ ان کے علاوہ شام میں حزب اللہ کی کارروائیوں کا تنظیمی کمانڈر اور شامی سیکورٹی اور عسکری اداروں کے ساتھ کوآرڈینیشن کا ذمہ دار محمد شمص بھی نمایاں نام ہے۔
حزب اللہ کی ملیشیاؤں کی جانب سے جاری بیانات کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ شام میں اس کے جنگجوؤں کی ہلاکتیں، گزشتہ برس جولائی میں دمشق کے نواح میں الزبدانی کے معرکوں کے دوران اپنے عروج پر رہیں۔